علامہ معزز حسین ادیب مکنپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ان کے سنت ان کی سنتان
کیا رب ہے اور کیا ہے الہ
کیا ہے صفت سے ذات کی راہ
اس ودّیا کے ہیں ودوان
ان کے سنت ان کی سنتان
ہے مشل آیات جدا
لیکن یہ پارہ پارہ
مل کر بنتے ہیں قرآن
ان کے سنت ان کی سنتان
ان کے ہیں زہرا و علی
ان کے نبی و زندہ ولی
چاہے جتنا کریں ابھیمان
ان کے سنت ان کی سنتان
ان کے در پر سب ہیں فقیر
کیا دارا کیا عالمگیر
دیتے ہیں شاہوں کو دان
ان کے سنت ان کی سنتان
ان کا رتبہ پہچانو
آج بھی جگ میں اگیانو
پگ پگ بانٹ رہے ہیں گیان
ان کے سنت ان کی سنتان
ان کے دل وہ درپن ہیں
جو بھی ولی کے دشمن ہیں
ان کو لیتے ہیں پہچان
ان کے سنت ان کی سنتان
ایک پلے گودی میں ادیب
ایک جدا رہ کر بھی قریب
ایک ہے جسم اور ایک ہے جان
ان کے سنت ان کی سنتان













