حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

نوحہ و مرثیہ

نمبرعنوان
1شکریہ حسین شکریہ
2منزل عشق حقیقی کے ہیں رہبر شبیر
3بابا کی یاد شام کا بازار سکینہ
4اللہ تیری دہائی مولی تیری دہائی
5یہ کیسا امتحان ہے یہ کیسا امتحان ہے
6دشت میں بالی سکینہ روتے روتے سو گئی
7تمہیں بابا سکینہ ڈھونڈتی ہے
8تیری رنگ لائی شہادت ہے قاسم
9رو کے سکینہ نے ہے پکارا آپ کہاں ہیں آپ کہاں ہیں
10بتاؤ پھوپی میرا اصغر کہاں ہے
11آج پھر نیند نہیں آئی مجھے
12مدینہ دور ہے مدینہ دور ہے
13میری خطا کیا تھی میری خطا کیا تھی
14اکبر تم مت جاؤ اکبر تم مت جاؤ
15ہائے پانی خون روتا رہ گیا
16چھڑا جو ذکر شہ کربلا بہت روئے
17اپنے قلم سے حال سکینہ نہ لکھ سکا
18زندان کی تنہائی سے گھبراتی ہوں بابا
19کہہ کے غازی نے یہ مشکیزہ اٹھایا خالی
20ہم وفادار حسین ہم وفادار علی
21اے میرے بابا اے بابا کیا تم مجھ کو بھول گئے
22اصغر کا جھولا اصغر کا جھولا
23ملا دل کو میرے آرام قاسم
24کون ہمارا ہے کون ہمارا ہے
25اے شہنشاہِ قاسم اے شہنشاہِ قاس
26آ جاؤ بابا، آ جاؤ بابا
27اپنی صغریٰ کو جھلک اپنی دکھاؤ بابا
28کربلا میں سبط شاہ انبیا سجدے میں ہے
29درد فرقت كا لئے زہرا کی بیٹی رہ گئی
30شہ کسے گود میں لائے ہیں کہاں ہے قاسم
31جب کٹا شہ کا گلا شمشیر بھی روتی رہی
32چل رہے ہیں تیر و خنجر سینۂ شبیر پر
33محمد مصطفیٰ کے نور کی تنویر ھے زینب
34اللہ رے زینب کا یہ کیا حال ہوا ہے
35بابا آؤ بن کر ہمدم گھر پر صغریٰ تنہا ہے
36لگ کے دستار سے خیمے میں تیرا آیا لہو
37الوداع ابن علی الوداع ابن علی
38رنج و آلام کی تصویر نظر آتی تھی
39یہ رو کے فَروہ نے دی صدا ہے چلے بھی آؤ کہاں ہو قاسم
40سکونِ قلبِ علی فخرِ فاطمہ زینب
41اہلِ حرم میں حشر بپا ہے قاسم کی یاد آتی ہے
42ہم سب حسین کے ہیں زمانہ حسین کا
43کس درجہ لوگو صاحب کردار ہیں حسین
44ایک منظر خیال میں آیا
45شبیر کے جیسا کوئی سردار نہیں ہے
46پاتا وہ اہلِ بیت کا صدقہ ہے سکینہ
47ہے شاہکارِ عبادت حسین کا سجدہ
48صاحبِ حسب و نسب میں نوحہ گر شبّیر کا
49ہر ایک صبر و ضبط کا پیکر تڑپ گیا
50غمگین یہ منظر ہے چلے آئیے بابا
51شه کا سر تن سے جدا ہے کربلا کی ریت پر
52عبادتوں کا سلیقہ سکھا گیا سجدہ
53زہرا کے لال ثانی حیدر کی یاد میں
54اپنے لہو سے حضرت شبیر لکھ گئے
55شبیر چل دیے ہیں بھرا گھر لیے ہوئے
56ہر سو ہے گھنگھور اندھیرا ڈھونڈ رہی ہے بابا کو
57تلوار تیر و نیزہ و خنجر کی ہار ہے
58تنہا ہے اولاد علی کربل کے میدان میں
59جو ہے قاسم اسی سے مانگیں گے
60ہیں رقم لوگوں 72 کربلا والوں کے نام
61سارا گھر لٹ گیا صبر کرتے رہے
62بھیا ذرا لے جاؤ ننھے علی اصغر کو
63آقا امام قاسم مولا امام قاسم
64اے کرب و بلا تو آنکھیں بچھا آئے ہیں نبی کے گھر والے
65غم زندگی اٹھانا شہ کربلا سے پوچھو
66آل پیغمبر کی وہ تشنہ دہانی یاد ہے
67المدد یا حسین ابن علی
68دشت میں تاریخ کے ایسا بھی اک لشکر ملا
69کچھ اس طرح سے دلوں میں سما گئے شبیر
70اے کرب و بلا اے کرب و بلا اے کرب و بلا اے کرب و بلا
71ذرہ ذرہ تیرا درج بے بہا ہے کربلا
72مسرتوں کے سمندر میں وہ نہائینگے
73کس قدر غمناک ہیں یہ واقعات کربلا
74ہیں چھائی ایمان کی گھٹائیں سنا رہی ہیں یہ گیت ملکر
75غمگین ہے ہر منظر یہ شام غریباں ہے
76عزم ابراہیم کو کس درجہ تو قیریں ملیں
77بابا کی آنکھوں کے تارے ہم تجھ کو جھولا جھلا ئیں
78ورثہ میں ہم نے باپ سے پایا غم حسین
79کرکے اسلام پر سارا کنبہ فدا فاتح کربلا فاتح کربلا
80ایسا بھی کوئی سارے جہاں میں صبر و رضا کا پیکر ہے
81جسکے دل میں بھی غم حسین کا ہے
82کسی سے غرض ہے نہ کچھ واسطہ ہے
83رہے شاداب یا رب ہر کلی اس کے گلستاں کی
84کتنا حیرتناک ہے منظر یہ کیا اندھیر ہے
85ایثار اور وفا کا ہر ایک زاویہ ہے عابد کے آنسوؤں میں
86اک پل نہیں گوارہ ہے فرقت حسین کی
87تسنیم و حوض کوثر و زمزم حسین کا
88ہر ایک خوشی اس کے قدموں پہ نچھاور ہے
89ہر ایک ظلم کو سہنے کا حوصلہ رکھنا
90بنا ہر ایک سکندر گرا حسین کا ہے
91عکس ضیائے مہر حرا کر بلا کی شام
92آگیا ماه محرم آگیا آگیا ماه محرم آگیا
93یہ کیسا منظر ہے یہ کیسا منظر ہے
94کرب و بلا ہے کرب و بلا ہے
95جو کربل سے طیبہ کو جائیگی زینب
96رور ہا تھا خون کے آنسو علم جب علمبردار کے بازو کٹے
97آجایئے بابا مرے آجائیے بابا مرے
98ہر موڑ پہ آقا کے کام آئیں گے عباس
99شبیر نے با چشم نم جس دم پڑھا صغری کا خط
100ہے صرف کہنے کو آپ فرات چلو میں
101بتلا اے فلک کیا تو نے کبھی ایسا کوئی منظر دیکھا ہے
102بچپن کا جو وعدہ تھا وہ وعدہ نبھاتے ہیں
103سوار دوش پیمبر حسین زنده باد
104نمود صبح کا پھولوں کی دل کشی کا سراغ
105زمین روتی ہے اور آسمان روتا ہے
106قسمت یہ کسی موڑ پہ لائی ہائے یہ کیا اندھیر ہوا
107کیا ٹھہر پائے بھلا کوئی نظر نیزے پر
108یہ زمیں تعزیہ دار ہے آسماں تعزیہ دار ہے
109ساری دنیا نہ کہے کیوں ہیں ہمارے شبیر
110جو راہ حق میں چھوڑ کے گھر اپنا چل پڑے
111دنیائے مسرت کو تم اپنا بنا لینا
112اے عابد بیمار مرے عابد بیمار
113اہل دل کی صدا حسین حسین
114فروغ عرش کی تنویر ہے عباس کا پرچم