| 1 | آقا تمہارے در پہ مرادیں لائے ہیں |
| 2 | زمیں پہ رہکے جنت کا نظارہ دیکھ لیتے ہیں |
| 3 | منبر کوفہ سے یہ ہر آن ثابت ہو گیا |
| 4 | ولیوں کے سردار سے اپنی نسبت ہے |
| 5 | بنت سرور کی دعا ہے عباس |
| 6 | چاند نے جب حیدر کا چہرہ دیکھ لیا |
| 7 | علی کی بزم میں جو لوگ بیٹھتے ہونگے |
| 8 | روئے احمد کا آئینہ زہرا |
| 9 | دلوں میں بغضِ علی جس کے بھی رہا نہ ملا |
| 10 | کھاتی یزیدیت ہے طمانچے حسین کے |
| 11 | دیکھ لوں میں بھی در ترا زینب |
| 12 | اذن تیرا ہو گر فاطمہ |
| 13 | پہلے نامِ حسین لکھتا ہوں |
| 14 | اُسی کے سر پہ ہے شفقت علی کے بیٹوں کی |
| 15 | جب بھی شبّیر کو پکارا ہے |
| 16 | ہو خاکِ پا تیری مجھ کو میسر سیدہ زہرابنوں میں بھی مقدر کا سکندر سیدہ زہرا |
| 17 | غلام حیدر کرار کا جواب نہیں |
| 18 | قلب کی ہے بقا ذکرِ مولا علی |
| 19 | دکھا دو اپنا چہرہ ہم کو بھی اِک بار سیف اللہ |
| 20 | یہ مانا حد اولیاء اور کچھ ہے |
| 21 | نور بکھرا ہوا ہے ارغونی |
| 22 | آ کے اپنا سر جھکاؤ یہ درِ سبطین ہے |
| 23 | روضۂ قطبِ جہاں کیا کیا نظر آتا ہے |
| 24 | میری نظروں میں اُس کی عزت ہے |
| 25 | آپ کی کتنی حسیں تھی زندگی کلب علی |
| 26 | رب کے محبوب کا ملا دامن |
| 27 | نِعمتِ کبریا میرے ارغون ہیں |