حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

نیل و فرات کی نہ سمندر کی بات ہے

On: March 5, 2025 6:00 PM
Follow Us:
 نیل و فرات کی نہ سمندر کی بات ہے

پیاسوں کے لب پہ ساقی کوثر کی بات ہے


چوما ا تھا جس کو پیار سے میرے رسول نے

اب ہر زبان پر اسی پتھر کی بات ہے


صحراء زندگی کی فضا جھوم جھوم اٹھی

چھیڑی جو تیری زلف معنبر کی بات ہے


طیبہ سے ہے قریب کوئی اور کوئی ہے دور

یہ تو سب اپنے اپنے مقدر کی بات ہے


ہم سے گناہ گار بھی جنت کو چل دیئے

رکھ لی خدا نے شافع محشر کی بات ہے


چھیڑا کسی نے ذکر جو ہجرت کی رات کا

یاد آئی مجھ کو جرات حیدر کی بات ہے


چادر شفق کی اوڑھ کے شاید یہ آفتاب

کرتا سوار دوش پیمبر کی بات ہے


مائل بہ لطف کر دیا جس نے حضور کو

و اللہ کیا مرے دل مضطر کی بات ہے


“مصباح ” اور ذکر شہنشاہ انبیاء

ذرے کے لب پہ مہر منور کی بات ہے
ـــــــــ

——


Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment