حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

کتنا حیرتناک ہے منظر یہ کیا اندھیر ہے

On: March 5, 2025 6:08 PM
Follow Us:
 کتنا حیرتناک ہے منظر یہ کیا اندھیر ہے

تشنہ لب ہے وارث کو ثر یہ کیا اندھیر ہے


جن کا سایہ بھی فلک تک نے نہ دیکھا تھا کبھی

ان کے سر سے چھن گئی چادر یہ کیا اندھیر ہے


چومتے تھے جس کو اکثر رحمۃ للعالمیں

ظلم کی ہے انتہا اس پر یہ کیا اندھیر ہے


جسکے گھر کی کرتے دربانی تھے جبریل امیں

کربلا میں ہے وہی بے گھر یہ کیا اندھیر ہے


چوم کر جس کے قدم ملتی ہیں سرافرازیاں

نوکِ نیزہ پر ہے اس کا سر یہ کیا اندھیر ہے


آج ننھی سی سکینہ اپنے بابا جان کا

ڈھونڈھتی ہے لاشۂ بے سر یہ کیا اندھیر ہے


جسکو کہتا ہے جہاں مشکل کشا کا ورثہ دار

ہے وہی “مصباح” بے یاور یہ کیا اندھیر ہے
 ـــــــــ
——

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment