علامہ معزز حسین ادیب مکنپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
کرکے تم کو یاد مدار
فرد ولی ہیں رتبے میں
تم فرد الافراد مدار
حق نے کئے تم پر تسخیر
آتش و خاک و باد مدار
فخر نہیں یہ بھی کچھ کم
ہم ہیں تری اولاد مدار
میری عرض بھی ہو مقبول
آپ جو کر دیں صاد مدار
ظلم کی زنجیروں سے ہیں
کر دیجئے آزاد مدار
کیا مجبوری کا احساس
کرتے ہیں امداد مدار
آپ کی اٹھی چشم کرم
مل گئی مجھکو داد مدار
بات اویسیت کی چلی
آگئے مجھکو یاد مدار
جانتے ہیں لاریب ادیب
دل کی ترے افتاد مدار



