علامہ معزز حسین ادیب مکنپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
علامہ معزز حسین ادیب مکنپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ
ہند میں جس نے اسلام پھیلا دیا وہ مدار جہاں آپ کی ذات ہے
جاگ جائے گی پل بھر میں قسمت یہاں آج تقسیم فیضان کی رات ہے
سو نہ جانا کہیں دردمندان غم بٹنے والی مدینے کی خیرات ہے
یوں تو ہر مسکن اولیاء زماں اپنی اپنی جگہ پر ہے جنت نشاں
لیکن اے جلوہ گاہ مدار جہاں تیری کیا بات ہے تیری کیا بات ہے
حاضر در ہیں مثل مہ و کہکشاں طالبان عاشقان اور دیوانگان
خادمان آگے آگے ہیں دولہا بنے پیچھے پیچھے ملنگوں کی بارات ہے
روضۂ پاک قطب زمین و زمان مرکز اہل دل قبلۂ عاشقاں
بھیڑ اہل عقیدت کی ہے ہر طرف ایسا لگتا ہے میدان عرفات ہے
ہے ادیب آج بھی قول اہل نظر ہو میسر اگر دیده معتبر
روضہ پاک سے اب بھی شام و سحر لمحہ لمحہ ظہور کرامات ہے



