کہہ رہا سارا جہاں ہے یا مدارالعالمیں
آپ کا دامن اماں ہے یا مدارالعالمیں
اس کا قطرہ قطرہ لگتا ہے ہمیں آب شفا
در پہ جو دریا رواں ہے یا مدارالعالمیں
اولیاء اس جا عقیدت سے جھکاتے ہیں جبیں
آپ کا روضہ جہاں ہے یا مدارالعالمیں
جس کسی کو آپ کا دامن ملا تقدیر سے
وہ بڑا ہی کامراں ہے یا مدارالعالمیں
جسکی خوشبو سے معطر ہے جہان معرفت
آپ کا وہ گلستاں ہے یا مدارالعالمیں
قلب مضطر کو جہاں ملتی سدا تسکین ہے
صرفِ تیرا آستاں ہے یا مدارالعالمیں
تیری خدمت سے چمن دین نبی کھل اٹھا
ایسا تو اک باغباں ہے یا مدارالعالمیں
غم کے سورج کی تمازت کا کوئی خطرہ نہیں
سر پہ تیرا سائباں ہے یا مدارالعالمیں
جس سے نکلے ہیں ہزاروں اولیاء رب کی قسم
تو ولایت کی وہ کاں ہے یا مدارالعالمیں
گردشوں کا کوئی خطرہ ہی نہیں اسکے لیئے
جس پہ بھی تو مہرباں ہے یا مدارالعالمیں
جو بھی عاشق ہیں تمہارے نام کے انکے لیئے
در ترا مثل جناں ہے یا مدارالعالمیں
ہند میں رکھے شرافت نے جہاں بھی ہیں قدم
آپ کا پایا نشاں ہے یا مدارالعالمیں
از نتیجہء فکر
مولانا شرافت علی شاہ
مداری بریلی شریف یو پی
28 دسمبر 2020

