حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

فہرست غزل ۔

نمبرعنوان
1دور غم گزار مسرت کا زمانہ آگیا
2ٹھہریں گے ضرور ایک دن سیلاب کے دھارے بھی
3مدہوش رہا ہوں کہ میں ہوشیار رہا ہوں
4سبب نہ ڈھونڈ کوئی بے سبب ستم کے لیے
5حیرانی سے کیوں چشم سحر دیکھ رہی ہے
6چونکے نہ ارادے جب دل میں وحشت کو جماہی آئی تو کیا
7چھو گئے باد سحر کیا ان کے گیسو ہاتھ میں
8آرزو ٹوٹ کے جب کوئی بکھر جاتی ہے
9ہائے کیسی بہار آئی ہے
10یوں ہی نہیں یہ ہونٹ ہمارے نیلے ہیں
11تیرے جلوے عام ہیں ہر شہ میں تیرا نور ہے
12جب سفینہ ہم بھنور میں لائے ہیں
13موقوف تھی وہ جسکی بہاروں پہ زندگی
14نہ ہٹاؤ مجھے بنیاد کا پتھر میں ہوں
15ہم لوگ اہنسا وادی ہیں
16ماہ کامل پر ہو جیسے کوئی اختر رکھ دیا
17ان کے غم کی نعمت ملنے والی ہے
18اب خوشی پا کر بہت رنجیدہ ہے
19سوزِ الفت کے ساز نے مارا
20نہ تڑپ ہے برقِ جمال میں نہ چمک ہے چلمَنِ ناز میں
21دلِ اِنساں بھی اللہ جانے کیا تماشا ہے
22ہے صحرائے جنوں اک جلوہ زارِ حُسنِ یکتائی
23ارادے نہ ہوں جب کہ دل کے ارادے
24ہنسی بھی غرقِ فغاں ہے، فغاں کو کیا کہیے
25عشق سرمستیٔ شوریدہ سری بھول گیا
26کیا شکوہ ہمیں اے دل ہم پر آوازیں جو دُنیا کَستی ہے
27چونکے نہ ارادے جب دل میں وحشت کو جماہی آتی تو کیا
28تہذیبِ عمارت روز نئے اندازِ شبستاں بدلے گی
29ہم دل مٹا کے منزلِ تسکین پا گئے
30قائم الم سے ربط وفا کر رہا ہوں میں
31دل ہے شرمندۂ احسان تمہارا کیسا
32آدمی فکر جو پیدا کرے انساں ہو کر
33رفعت انساں دیکھ رہا ہوں
34ماضی کی نیند اب نہ سو اجڑا ہوا نہ خواب دیکھ
35جورو جفائے دہر کی باقی کچھ انتہا نہیں
36کامراں مقصد تعمیر وہاں ہوتا ہے
37شب غم ہم نے صدقے جس پہ کی ہے
38دل کے پیارے آنکھ کے تارے
39ستم طراز نگاہوں کا مدعا سمجھوں
40اسے بہائے کیا موسم گل کا آنا
41پیدا گلوں سے رنگ بہاراں نہ ہو سکا
42بسایا ہم نے ہے اے دوست جس کو مشکل سے
43فنا یہ عارضی ہے حسن شباب ہونا ہے
44میری یہ دل کی حقیقت کو کوئی کیا جانے
45جس جگہ پھولوں کو خنداں دیکھا
46دل جو غرق حوادثات ہے یہ