کرتا ہوں دعا شام سحر رحمت عالم
بلوالو مجھے طیبہ نگر رحمت عالم
دربار ہے تمہارا جدھر رحمتِ عالم
آئیں گے اسی پاک نگر رحمت عالم
یہ کہ اٹھے جبریل امیں جھوم جھوم کر
رکھتے ہیں دو عالم کی خبر رحمت عالم
صدیق و عمر حضرت عثمان علی سے
ہوتا ہے دعاؤں میں اثر رحمت عالم
دیتے ہیں تمکو واسطہ حسنین و علی کا
رکھ لیجئے ہم سب کا بھرم رحمت عالم
اس گنبد خضریٰ کے حسیں سائے کے نیچے
گزرے جو میرے شام و سحر رحمت عالم
منکر ہیں جو بھی آل نبی کے اے مجاہد
کیسے ملے بہشت میں گھر رحمت عالم
۔۔۔۔۔مجاہد مداری۔۔۔۔۔۔
naat sharif lyrics
Karta hoon dua shaam o sahar, Rahmat-e-Aalam


