مالک کون و مکاں کے دلربا صدیق ہیں
بعد اقا سب سے افضل مرحبا صدیق ہیں
مال و زر جان و جگر قربان اپنا کر دیا
اس طرح سے عشق احمد میں فنا صدیق ہیں
مصطفی کے ایک اشارے پر کروں میں جاں نثار
دل میں اپنے یہ جذبہ صدا صدیق ہیں
بعد آقا امت خیرالوری میں واقعی
جن کو اپنا مانا سب نے پیشوا صدیق ہیں
عاشقان مصطفی کہتے ہیں سب یہ جھوم کر
جانشین تاجدار انبیاء صدیق ہیں
جس کو آقا نے مصلے پر بڑھایا تھا کبھی
ہاں وہی تو جانشین مصطفی صدیق ہیں
او مجاہد خوف کیوں کر تجھ کو روز حشر کا
تیرے حامی تیرے رہبر جب بھلا صدیق ہیں


