حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

عورت کہے مجھے طلاق دی ہے؟

On: September 13, 2025 3:38 PM
Follow Us:

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ عورت کہتی ہے کہ اس نے مجھے چار طلاق دی ہیں، اور شوہر کہتا ہے کہ میں نے صرف دو طلاق دی ہیں۔ ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟ کس کا قول معتبر ہوگا اور کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

ٱلْجَوَابُ بِعَوْنِ ٱلْمَلِكِ ٱلْوَهَّابِ، ٱللّٰهُمَّ هِدَايَةَ ٱلْحَقِّ وَٱلثَّوَابِ
طلاق دینا شوہر کا حق اور اختیار ہے، اس لیے طلاق کے الفاظ اور ان کی تعداد کے بارے میں اصل اعتبار شوہر کے قول کا ہوگا۔
اگر عورت زیادہ طلاق کا دعویٰ کرے تو اُس پر شرعاً بیّنہ (دو عادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی) پیش کرنا لازم ہے۔
اگر وہ گواہی نہ لا سکی تو اس کا قول معتبر نہیں ہوگا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے
وَإِذَا اخْتَلَفَا فِي الْعَدَدِ يُقْبَلُ قَوْلُ الزَّوْجِ، لِأَنَّهُ أَعْلَمُ بِمَا أَخْرَجَ مِنْ فِيهِ.(ج ۱، ص ۳۷۶، کتاب الطلاق)
یعنی: اگر شوہر اور بیوی طلاق کی تعداد میں اختلاف کریں تو شوہر کا قول معتبر ہوگا، کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ اُس کے منہ سے کیا الفاظ نکلے۔

در مختار میں ہے
الأصل في الطلاق قول الزوج إذ هو المالك له.(ج ۳، ص ۲۶۵، باب الطلاق)
یعنی: طلاق میں اصل اعتبار شوہر کے قول کا ہے کیونکہ وہی اس کا مالک ہے۔

رد المحتار میں ہے
ابنِ عابدین لکھتے ہیں کہ عورت کے دعویٰ کو صرف اسی وقت سنا جائے گا جب وہ بیّنہ (گواہ) لائے، ورنہ نہیں۔

بہارِ شریعت میں ہے
اگر شوہر کہے: میں نے ایک یا دو طلاق دی ہیں، اور عورت کہے: تین دی ہیں، تو شوہر کا قول مانا جائے گا جب تک عورت گواہ نہ پیش کرے۔(جلد ۲، حصہ ۷، ص ۱۲۴):

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں: اگر شوہر کہتا ہے کہ میں نے دو طلاق دی ہیں، اور عورت کہتی ہے: چار طلاق دی ہیں،
اور عورت اپنے دعویٰ پر کوئی گواہ نہیں لاتی،
تو شرعاً شوہر کا قول معتبر ہوگا اور صرف دو طلاق واقع ہوں گی، چار نہیں۔

اور یہ بھی واضح رہے کہ طلاق دینا شوہر کا اختیار ہے۔ اگر میاں بیوی میں طلاق کی گنتی پر جھگڑا ہو جائے، تو اصل اعتبار شوہر کی بات کا ہوگا، کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کتنی طلاق دی ہیں۔ بیوی اگر زیادہ طلاق کا دعویٰ کرے تو اسے ثبوت دینا ہوگا۔ بغیر ثبوت کے اس کا دعویٰ مانا نہیں جائے گا۔ اس لیے یہاں صرف دو طلاق واقع ہوں گی، چار نہیں۔
وَاللّٰهُ تَعَالَىٰ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

کَتَبَهُ:
مفتی سید مشرف عقیل امجدی
قاضی و مفتی: ہاشمی دارالافتاء و القضاء، موہنی شریف، سیتامڑھی، بہار (الہند)
تاریخ: 11؍ صفر المظفر 1447ھ / 04؍ ستمبر 2025ء (جمعرات)

Countdown Redirect Button
اس فائل کو یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں
10

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment