حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

فہرست نعت علامہ ادیب مکن پوری

نمبرعنوان
1لب پہ انہیں کا ذکر بصد احترام ہے
2نیاز عشق بھی اور ناز دلربائی بھی
3تکلف سے گریزاں سادگی معلوم ہوتی ہے
4سرکار مدینہ مرے سرکار مدینہ
5دل جمال رخ احمد کا طلبگار تو ہے
6جلو میں اپنے ہجوم بہار لیکے چلو
7دل میں حسرت نہیں دیدار مدینہ کے سوا
8جنت کے راہی کیا تجھے یہ بھی شعور ہے
9سلمان زمانے کا چلن بھول گئے ہیں
10بر پا بزم پیمبر ہوگی
11یا رب مجھے وہ نعت کی توفیق عطا ہو
12خدارا اے عازم مدینہ پہونچ کے پیش حضور عالی
13محشر میں اس شان سے آیا کون و مکاں کا والی ہے
14یہ ممکنات سے ہے سب تجھے خدا دیدے
15وجہ نظام کن فکاں حاصل کا ئنات ہے
16نہ کوثر نہ جنت کا در ڈھونڈتی ہے
17سرور دو عالم کا لو وہ آستاں آیا
18یہ ہے مدینۃ النبی یہ ہے مدینۃ النبی
19اے باد صبا ہو جو مدینے میں حضوری
20جب سکوں ڈھونڈھنے بیکس کی نظر جاتی ہے
21مقصد جز و کل مرضئ کبریا آپ کی ذات ہے یا حبیب خدا
22فخر نوح و فخر آدم سرور کونین ہیں
23ہے سجائی گی بزم عالم آگئے تاجدار دو عالم
24اپنا تو آسرا فقط روز حساب ایک ہے
25اپنا وہ اعجاز مجھ کو بھی دکھا دو مصطفیٰ
26ہے اگر تو میری فغان شب تو نہ بیٹھ پردۂ راز میں
27نہیں ہے یوں تو کسی کا جواب ناممکن
28آئے وہ میرے سرکار سارے جگ کے تارن بار جن سے آس ہے مجھے
29اسی امید میں اپنی بسر اب زندگی ہوگی
30کاش ہستی کا وہی آخری لمحہ ہوتا
31عظمت گنبد خضری ہے کہ اللہ اللہ
32کوئی راہی جو مدینے کی طرف جاتا ہے
33راز دار حریم خدا آپ ہیں
34آئی یاد مدینہ آئی
35آنکھوں سے مری آنسو طیبہ میں جدا ہو نگے
36مقصد فطرت نور مجسم آئے جہاں میں سرور عالم
37ہم ہجر کی کالی راتوں میں اکثر یہی سوچا کرتے ہیں
38بروز حشر جب دیں گے حساب اول سے آخر تک
39وہ حامی ہے جو سید مکی مدنی ہے
40سرگوشیاں ہیں باہم محراب میں منبر میں
41تری ذات سے منور یہ فلک ہے یہ زمیں ہے
42اکرام کم نہیں ہیں یہ سر کار آپ کے
43اے سرور کونین شہنشاہِ دوعالم
44اللہ اللہ حضور کی محفل
45پھیلا ہوا وہ دامن رحمت تو دیکھیے
46غلام جس کو رسولِ زماں بناتے ہیں
47نوری چہرہ روشن آنکھیں ابرود و خمدار کمانیں گیسو گھونگھر والے ہونگے
48کتنا عجیب وصل و فراق رسول ہے
49سب سنی ان سنی ہو جاتی گزارش میری
50کہیں کیا کیسے فیضان حبیب کبریا پایا
51نجات انسانیت پائے ہدایت ہو تو ایسی ہو
52یہ بھی ہے معجزۂ احمد مختار نیا
53پھولوں کو مہک کلیوں کو رنگت نہ ملیگی
54حضرت یوسف ہیں حیراں حسن صورت دیکھ کر
55جو نورِ مصطفیٰ زینت دہ مکہ نہیں ہوتا
56ہم ہیں یہ لو لگائے دیار حضور میں آئے تو موت آئے دیار حضور میں
57دور شادمانی ہے ہر طرف زمانے میں
58ہوتی نہ اگر زلفِ پریشان محمد
59مدینہ کی جانب گھٹائیں رواں ہیں
60ہیں بد سے بھی بدتر مرے اعمال مدینہ
61اتنا بڑا اعجاز دکھانا سب کے بس کی بات نہیں
62حرص کے بندوں کو گنجینہ زرکافی ہے
63خدمت سرور کونین میں تحفہ لیکر
64کیا حشر ہے کیا قصہ انعام و سزا ہے
65بگڑا ہوا بنتا ہے ہر کام مدینے میں
66جو دل کو احساس نارسی دے وہ کرب غم ہے خوشی نہیں ہے
67پھر محمد مجھے یاد آنے لگے
68سمت مکہ سے اٹھی جھوم کے رحمت کی گھٹا
69فریاد جو دل سے کی جائے مملو بہ اثر ہو جاتی ہے
70تولے تو چل گردش زمانہ نہ پوچھ طیبہ میں کیا ملے گا
71نور احمد سے منور ہے مدینے کی زمیں
72اک تحفۂ نایاب ہے خالق کی نظر میں
73کچھ اور اس کو سجھئے وہ آدمی کیا ہے
74بسائے رکھو دلوں میں خیال طیبہ کا
75غلط کہ آقا نے بیت الحرام چھوڑ دیا
76اللہ ری وہ ژرف نگاہی بلال کی
77مکی مدنی ہاشی و مطلبی کے
78اتنی ہی میری عرض ہے اتنی ہی التجا فقط
79لہو میں بوئے شرافت مرے حضور کی ہے
80مقابلے میں ذرا آفتاب لائے تو
81جلالی ہے دنیا جمالی ہے دنیا
82یہ تو مرضی پہ ہے انکی کہ وہ کب دیتے ہیں
83جلوہ جو رو پوش تھا وہ رونما کیسے ہوا
84ان کو امین رتبہ بے حد بنا دیا
85ہر ایک دل میں ہے جائے محمد عربی
86جب دی اماں نہ سایۂ دیوار نے مجھے
87روح تشنہ کو مئے عشق سے سرشار کریں
88جو دل کو طیبہ پہ کر کے نثار ناز کرے
89حشر کے روز وہی سب سے نمایاں ہوگا
90جہاں میں نورِ رسالت مآب آتا ہے
91دیار طیبہ کے جانے والے رواں دواں جب نظر ہیں آئے
92کوئی اصحاب سرکار سے پوچھ لے رکھتی ہے کیا نظر مصطفیٰ کی نظر
93حبیب حق کا ہو جس میں ظہور کیا کہنا
94تعبیر چاہتا ہوں یہ دیکھا ہے خواب میں
95ربط ہو جائے جو پیدا بخدا طیبہ سے
96درخشاں نور خالق کا ستارا ہے مدینے میں
97مدینے میں تن خاکی اگر بے جاں نہیں ہوتا
98ہے جلوہ گر جو آئینہ ہے شانِ کبریائی کا
99حاصل شوق حضوری نہیں حسرت کے سوا
100انجام میرا تھا نہ حصار خطر میں ہے
101میں نعت کہوں کب مجھے تمئیز سخن ہے
102تری رفعتوں کو سمجھ سکے یہ کہاں کسی کی مجال ہے
103آپ ہیں وجہ خلقت آدم محسن انساں رحمت عالم
104جلوہ ذات محمد سے شناسائی ہو
105تجلی روکش خلد بریں معلوم ہوتی ہے
106نظر حضور کی اٹھی کس اہتمام کے بعد
107خدا نے آپ کو شیریں مقال رکھا ہے
108طیبہ دربار چلیں طیبہ دربار چلیں
109کونین کا مختار نہ ہوگا نہ ہوا ہے
110ہم گنہگاروں کے حق میں تھی وہ نعمات کی رات
111نعل حضور تاج سر آسماں بنی
112دیکھو یہ گلی کوچے یہ بام اور یہ در تو دیکھو
113فغان عشق نبی بے اثر نہیں ہوتی
114مقام قرب کیا ہے اور کیا شان محمد ہے
115بس ایک سہارے پر سر حشر چلے ہیں
116کہیو نبی جی سے اوری بیریا
117ضو بار مدینہ کی سحر دیکھ رہے ہیں
118مدینے والے کا جلوہ ہے میری آنکھوں میں
119گرمائے دل جو گرمئ محشر تو کیا کریں
120مثل بھی کوئی نہیں جب مرے آقا تیرا
121نہیں فقط اختیار امت مدینے والے کے ہاتھ میں ہے
122چھائی ہے ہر طرف جہل کی تیرگی آؤ طیب چلیں آؤ طیبہ چلیں
123اسلام کے انوار ہیں اور قلب عمر ہے
124ہیں نقش قدوم شاہ ہدی طیبہ کی منور گلیوں میں
125زندہ رہنے کی ادا سکھلا گیا بطحی کا چاند
126مختار نظام کون و مکاں ہے ذات مدینے والے کی
127لے چلی ہے مجھے اے حسرت دیدار کہاں
128باعث ابتدا حاصل انتہا مرحبا مرحبا يا حبيب خدا
129بنام رند طیبہ حوض کوثر جاگ جاتا ہے
130ذات سرکار جلوہ نما ہو گئی
131جو ان کو دیکھ سکے وہ نظر عبادت ہے
132اے شوق دید گنبد خضرا ہے سامنے
133مدحت کا کیسے پورا ہو ارمان یا نبی
134ادب شناسی ہے محو حیرت شعور بھی پیچ و تاب میں ہے
135طیبہ کا تقدس تھا کہاں آپ سے پہلے
136ذات محمدی پہ نظر ہے خدا کے بعد
137عالم ہجر میں جب ذکرِ مدینہ آیا
138بیاں کیسے بھلا اس کا کمال حسن سیرت ہو
139جہاں ظلمتوں کا گزر نہ ہو وہ مقام مرکز نور ہے
140وہ ذات پیشوائے مرسلاں ہے
141بن کر رہا یہ غم میں پیامی سرور کا
142آئیے مل کے پڑھیں ان پر درود
143کام تعلیم رسول عربی آہی گئی
144نظام حشر زیر اختیار مصطفیٰ ہوگا
145ایک دیوانہ اور پاوں اسپر دھرے چومے جس خاک نے مصطفیٰ کے قدم
146جذب جنوں ہے رہبر اور شوق ہمسفر ہے
147وہ جذب نظر دے دے یا رب تو ان میری بینا آنکھوں میں
148ٹھوکر میں تیری شاہوں کی شاہی
149ذوق طلب معذور نہیں ہے
150عشق محمد عام نہیں ہے
151میں جب بھی ذکر محمد زباں پہ لاؤں گا
152جلال معبودیت ہے پنہاں عجیب خاشاک بندگی میں
153چلے تمہاری جو زندگی سے سبق تمہارے غلام لیکر
154نور مجسم رحم کے پیکر صلی اللہ علیہ وسلم
155چمن میں خزاں کے قدم ڈگمگائے محمد جو آئے
156دل سے احمد کا جب سلسلہ مل گیا
157ماه نبوت شاه مدینہ
158اپنے انجام سے دل پریشان تھا فرد عصیاں تھی روز جزا ہاتھ میں
159یہ کالی گھٹائیں یہ فضائیں یہ نظارہ
160نہ خوف سزا اور نہ بیم قیامت
161وفور عشق میں وہ بھی مقام آتا ہے
162خلق محشر میں تسکین پاجائیگی
163مصطفیٰ کی جو الفت نہیں
164نظام جبر مٹا شکر کا ما مقام آیا
165مستحق کر چکی جب سزا کا حشر میں دست و پا کی گواہی
166جو روح کانپی بخوف عصیاں شفیع محشر کی یاد آئی
167کیوں ظلمتیں ہیں توڑ رہی دم نہ پوچھیے
168مصطفى صل علی صل علی صل علی
169ساتھی جی گھبرائے نبی کی بات کرو
170انوار حریم یزداں میں رہتے ہیں جہاں سرکار مرے
171بیکس پہ ترس کھاؤ مدینے کی ہواؤ
172با وصف تمنا آج تلک ہم خود تو مدینے جا نہ سکے
173ذکرِ معراج کی محفل ہے بپا آج کی رات
174ادیب سہل نہیں شرح شانِ مصطفوی
175نور خیر البشر دیکھتے ره گئے
176وہی ہستی جو آفت ہے بلا ہے
177تعصب کے اندھیروں میں محبت کا اجالا ہے
178یہ رہ گئے مہ و اختر وہ عرش باری ہے
179بلائیں اگر پاس سرکار میرے
180اے چرخ مہر و ماہ کا اپنے جواب دیکھ
181کیا جو ذکر نبوت حیات جھوم اٹھی
182یہ تڑپ یہ سوز یہ سوزشیں دل مضطرب تری بھول ہے
183وجہ ناز رسل باعث جزو کل حاصل کن فکاں جلوہ افروز ہیں
184ادھر بھی وہ ہے ادھر بھی وہ ہے، ہے صرف پردے کی دلنوازی
185اے فدائیے خیر الوریٰ جو ترا سلسلہ ہے مدینے کے دربار سے
186مقصد حسن یقیں ہو یا محمد مصطفیٰ