حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

فہرست منقبت علامہ ادیب مکن پوری

نمبرعنوان
1مدار سے بیر قہر خالق اگر نہیں ہے تو اور کیا ہے
2کہتی یہی دھرکتی ہوئی نبض وقت ہے
3کہہ رہے ہیں یہ کشمیر و لنکا سبھی اور یہی قول بنگال و گجرات ہے
4جو رکھتا ہے نسبت مداری یہی وہ کہتا ہوا ملا ہے
5وہ ہوائے کوئے مدار ہے کہ جہاں جہاں سے گذر گئی
6جمال حسن مدینہ مدار کا در ہے
7کیا نور کی بارش ہے کیا جلوہ فشانی ہے
8ہوتے ہیں ہم شاد مدار
9فروغ وادئ سینا مری نگاہ میں ہے
10عرس سرکار یہ کہتا ہوا سب سے آیا
11اے حلب والے تیری عجب ذات ہے تیری کیا بات ہے تیری کیا بات ہے
12اے مدار دو جہاں مہر رسالت کی ضیا
13آج مرے سرکار کی ذات دن کے دن اور رات کی رات
14سجدے میں آگیا ہے جمال آفتاب کا
15ہوتے ہیں ہم شاد مدار
16آئیں طوفاں جو آنے والے ہیں
17شان مدار دو جہاں دیکھ کے عقل دنگ ہے
18مایوسی کے بندھن سے کر کے آزاد مدار عالم نے
19ہر ایک ذرے سے آشکارا تجلیوں کی بہار دیکھو
20ہر لمحہ ہے نور کی برکھا ایسا لگتا ہے
21بنائے جلوہ بارئی مدار العالمیں رکھ دی
22نور چشم آل ختم المرسلين قطب المدار
23کوئی ولی ہوا کوئی حق آشنا ہوا
24لخت دل حسنین مرے قطب دو عالم
25اے مدار جہاں اے مدار جہاں
26میرے قطب جہاں میرے قطب جہاں
27چمکے چم چم تہری نگریا قطب زمین زماں
28لاج رکھ لینا زنده مدار
29سارے جگ میں دو مہمان ان کے سنت ان کی سنتان
30آقا کرم کرو میرے مولا کرم کرو
31اپنا دامن پسارے کوئی دکھیا پکارے موری بنتی سنوسر کاررے
32كب ليهو مورى كهبريا
33جبیں جھکائے برائے سلام آئے ہیں
34سمجھے ہیں سبھی روضۂ آقا پہ نظر ہے
35اے تمنائے دل ناز قسمت پہ کر ناز کرنے کا تیرے مقام آ گیا
36سحر کا وقت یہ لیکے پیام آیا ہے
37لے کے سر میں جنوں عقیدت کیوں نہ کھنچ آئے سارا زمانہ
38صرف ترا نفس نفس طاعت کردگار میں
39آستان مدار جہاں پر قصہ غم سنانے چلا ہے
40مست عشق مدار جہاں ہیں در پہ دھوئی رمائے ہوئے ہیں
41ہیں یوں تو اقلیم معرفت میں بڑے بڑے تاجدار آئے
42تجلیّ مہر ولایت کا دن ہے
43غم گردش زمانہ نہ خطر ہے آسماں سے
44غم دنیا نہ کچھ خوف قیامت کی ضرورت ہے
45یہ ضوفشاں جو مدار جہاں کا روضہ ہے
46پاکے قطب دو عالم کا در زندگی
47آئینہ جنوں کو جلا دیجئے حضور
48نہ اہل زر نہ کسی حکمراں سے ملتی ہے
49پھر اس کو خوف تیرہ شبی کیا بھلا رہے
50مكين قلب و جگر دم مدار بیڑا پار
51تری رفعتوں پہ نظر کرے جسے آگہی کی تلاش ہے
52یہ ارض مکن پور بھی کس درجہ حسیں ہے
53نگاه والوں تمہیں کیا دکھائی دیتا ہے
54تیری نسبتوں کے صدقے مجھے خوب یہ پتہ ہے
55غم سے دل ہے دوپارہ مدار جہاں
56دل مبتلا سے نکلتا ہے ہر دم مدار دوعالم
57مدینے کی تقسیم خیرات ہوگی
58تو گلشن حیات میں جان بہار ہے
59سب گردو غبار شیشہ دل پل بھر میں جدا ہو جاتا ہے
60ہم قطب جہاں کے دیوانے جب جوش جنوں دکھلاتے ہیں
61محبوب خدا کی رحمت کا بہتا ہوا دریا دیکھ لیا
62کھپا ہے روضہ قطب المدار آنکھوں میں
63جو بیہوش عشق مدار آج بھی ہے
64مرکز نور ہے یہ مقام شرف جلوہ فرما یہاں ہیں مدار جہاں
65جب نشان مدار جہاں مل گیا
66کیوں پھوٹتی ہیں کرنیں اس خاک دل نشیں سے
67قطب دو عالم کے سینے میں قلب نبی کی دھڑکن ہے
68لب پہ جب نام قطب المدار آگیا
69وہ رحمت خلقت یہ مدار دو جہاں ہے
70ملیں گے ذروں میں ماہ اختر دیار قطب جہاں میں آؤ
71لاج رکھیو سرکار لاج رکھیو سرکار