ولیوں کے سردار مدد کو آجاؤ
جینا ہے دشوار مدد کو آجاؤ
ہم دکھیارے تیری مدد کے طالب ہیں
زندہ شاہ مدار مدد کو آجاؤ
کس کو سنائے حال کوئی سنتا ہی نہیں
بیری ہے سنسار مدد کو آجاؤ
میرے مسیحا بن کر اے قطبِ عالم
کہتے ہیں بیمار مدد کو آجاؤ
ہر جانب سے رنج و الم نے گھیرا ہے
اے میرے سرکار مدد کو آ جاؤ
سترہویں ویں کی شب دامن پھیلائے ہم
حاضر ہیں سرکار مدد کو آ جاؤ
ہند میں اپنے دست کرم سے ڈھانے کو
نفرت کی دیوار مدد کو آ جاؤ
جاؤ جہاں بھی ہر سو آقا نفرت کا
گرم ہے ایک بازار مدد کو آ جاؤ
دست طلب پھیلائے سبھی ہیں اے آقا
کرنے بیڑا پار مدد کو آ جاؤ
شاد کو تم سے ممتا کی امیدیں ہیں
ماں کا نہیں اب پیار مدد کو آجاؤ


