آل محبوب داور پہ لاکھوں سلام
یعنی سبط پیمبر پہ لاکھوں سلام
بھو کے پیا سے جو دیں پر فدا ہو گئے
بھیجئیے ان بہتر. پہ لاکھوں سلام
جس کے در سے کوئ خالی لوٹا نہیں
اس سخاوت کے ساگر پہ لاکھوں سلام
أج بھی بھیجتا ہے یہ أب فرات
وارث حوض کوثر پہ لاکھوں سلام
تجھ میں آسودہ ہے فاطمہ کا چمن
ارض کربل کے منظر پہ لاکھوں سلام
جس کے اشـعار میں حُسنِ شبیر ہے
شاعری تیرے پیکر پہ لاکھوں سلام
جسکو سینچا ہے خود میرے سرکار نے
اس چمن کے گل تر پہ لاکھوں سلام
جس نے گھر کربلا میں فدا کر دیا
اس محمد کے دلبر پہ لاکھوں سلام
جس سے مخلوق رب کو ہدایت ملی
ایسے ہادی و رہبر پہ لاکھوں سلام
بھائ کو جس نے اقا ہمیشہ. کہا
ایسے غازی برادر پہ لاکھوں سلام
چھوڑ کر جس نے باطل کوحق پالیا
ایسے حـرِ دلاور پہ لاکھوں سلام
خون میں پر بھگو کر جو طیبہ گیا
بھیجئیے اس کبوتر پہ لاکھوں سلام
بھائ پر جس نے بیٹے نچھاور کئے
اس بہن کے مقدر پہ لاکھوں سلام
اے شرافت سدا تم بھی پڑھتے رہو
لخت زہرا ؤ حیدر پہ لاکھوں سلام
از نتیجہء فکر
مولانا شرافت مداری
سرنیاں سی بی گنج بریلی



