| 1 | لب پہ انہیں کا ذکر بصد احترام ہے |
| 2 | نیاز عشق بھی اور ناز دلربائی بھی |
| 3 | تکلف سے گریزاں سادگی معلوم ہوتی ہے |
| 4 | سرکار مدینہ مرے سرکار مدینہ |
| 5 | دل جمال رخ احمد کا طلبگار تو ہے |
| 6 | جلو میں اپنے ہجوم بہار لیکے چلو |
| 7 | دل میں حسرت نہیں دیدار مدینہ کے سوا |
| 8 | جنت کے راہی کیا تجھے یہ بھی شعور ہے |
| 9 | سلمان زمانے کا چلن بھول گئے ہیں |
| 10 | بر پا بزم پیمبر ہوگی |
| 11 | یا رب مجھے وہ نعت کی توفیق عطا ہو |
| 12 | خدارا اے عازم مدینہ پہونچ کے پیش حضور عالی |
| 13 | محشر میں اس شان سے آیا کون و مکاں کا والی ہے |
| 14 | یہ ممکنات سے ہے سب تجھے خدا دیدے |
| 15 | وجہ نظام کن فکاں حاصل کا ئنات ہے |
| 16 | نہ کوثر نہ جنت کا در ڈھونڈتی ہے |
| 17 | سرور دو عالم کا لو وہ آستاں آیا |
| 18 | یہ ہے مدینۃ النبی یہ ہے مدینۃ النبی |
| 19 | اے باد صبا ہو جو مدینے میں حضوری |
| 20 | جب سکوں ڈھونڈھنے بیکس کی نظر جاتی ہے |
| 21 | مقصد جز و کل مرضئ کبریا آپ کی ذات ہے یا حبیب خدا |
| 22 | فخر نوح و فخر آدم سرور کونین ہیں |
| 23 | ہے سجائی گی بزم عالم آگئے تاجدار دو عالم |
| 24 | اپنا تو آسرا فقط روز حساب ایک ہے |
| 25 | اپنا وہ اعجاز مجھ کو بھی دکھا دو مصطفیٰ |
| 26 | ہے اگر تو میری فغان شب تو نہ بیٹھ پردۂ راز میں |
| 27 | نہیں ہے یوں تو کسی کا جواب ناممکن |
| 28 | آئے وہ میرے سرکار سارے جگ کے تارن بار جن سے آس ہے مجھے |
| 29 | اسی امید میں اپنی بسر اب زندگی ہوگی |
| 30 | کاش ہستی کا وہی آخری لمحہ ہوتا |
| 31 | عظمت گنبد خضری ہے کہ اللہ اللہ |
| 32 | کوئی راہی جو مدینے کی طرف جاتا ہے |
| 33 | راز دار حریم خدا آپ ہیں |
| 34 | آئی یاد مدینہ آئی |
| 35 | آنکھوں سے مری آنسو طیبہ میں جدا ہو نگے |
| 36 | مقصد فطرت نور مجسم آئے جہاں میں سرور عالم |
| 37 | ہم ہجر کی کالی راتوں میں اکثر یہی سوچا کرتے ہیں |
| 38 | بروز حشر جب دیں گے حساب اول سے آخر تک |
| 39 | وہ حامی ہے جو سید مکی مدنی ہے |
| 40 | سرگوشیاں ہیں باہم محراب میں منبر میں |
| 41 | تری ذات سے منور یہ فلک ہے یہ زمیں ہے |
| 42 | اکرام کم نہیں ہیں یہ سر کار آپ کے |
| 43 | اے سرور کونین شہنشاہِ دوعالم |
| 44 | اللہ اللہ حضور کی محفل |
| 45 | پھیلا ہوا وہ دامن رحمت تو دیکھیے |
| 46 | غلام جس کو رسولِ زماں بناتے ہیں |
| 47 | نوری چہرہ روشن آنکھیں ابرود و خمدار کمانیں گیسو گھونگھر والے ہونگے |
| 48 | کتنا عجیب وصل و فراق رسول ہے |
| 49 | سب سنی ان سنی ہو جاتی گزارش میری |
| 50 | کہیں کیا کیسے فیضان حبیب کبریا پایا |
| 51 | نجات انسانیت پائے ہدایت ہو تو ایسی ہو |
| 52 | یہ بھی ہے معجزۂ احمد مختار نیا |
| 53 | پھولوں کو مہک کلیوں کو رنگت نہ ملیگی |
| 54 | حضرت یوسف ہیں حیراں حسن صورت دیکھ کر |
| 55 | جو نورِ مصطفیٰ زینت دہ مکہ نہیں ہوتا |
| 56 | ہم ہیں یہ لو لگائے دیار حضور میں آئے تو موت آئے دیار حضور میں |
| 57 | دور شادمانی ہے ہر طرف زمانے میں |
| 58 | ہوتی نہ اگر زلفِ پریشان محمد |
| 59 | مدینہ کی جانب گھٹائیں رواں ہیں |
| 60 | ہیں بد سے بھی بدتر مرے اعمال مدینہ |
| 61 | اتنا بڑا اعجاز دکھانا سب کے بس کی بات نہیں |
| 62 | حرص کے بندوں کو گنجینہ زرکافی ہے |
| 63 | خدمت سرور کونین میں تحفہ لیکر |
| 64 | کیا حشر ہے کیا قصہ انعام و سزا ہے |
| 65 | بگڑا ہوا بنتا ہے ہر کام مدینے میں |
| 66 | جو دل کو احساس نارسی دے وہ کرب غم ہے خوشی نہیں ہے |
| 67 | پھر محمد مجھے یاد آنے لگے |
| 68 | سمت مکہ سے اٹھی جھوم کے رحمت کی گھٹا |
| 69 | فریاد جو دل سے کی جائے مملو بہ اثر ہو جاتی ہے |
| 70 | تولے تو چل گردش زمانہ نہ پوچھ طیبہ میں کیا ملے گا |
| 71 | نور احمد سے منور ہے مدینے کی زمیں |
| 72 | اک تحفۂ نایاب ہے خالق کی نظر میں |
| 73 | کچھ اور اس کو سجھئے وہ آدمی کیا ہے |
| 74 | بسائے رکھو دلوں میں خیال طیبہ کا |
| 75 | غلط کہ آقا نے بیت الحرام چھوڑ دیا |
| 76 | اللہ ری وہ ژرف نگاہی بلال کی |
| 77 | مکی مدنی ہاشی و مطلبی کے |
| 78 | اتنی ہی میری عرض ہے اتنی ہی التجا فقط |
| 79 | لہو میں بوئے شرافت مرے حضور کی ہے |
| 80 | مقابلے میں ذرا آفتاب لائے تو |
| 81 | جلالی ہے دنیا جمالی ہے دنیا |
| 82 | یہ تو مرضی پہ ہے انکی کہ وہ کب دیتے ہیں |
| 83 | جلوہ جو رو پوش تھا وہ رونما کیسے ہوا |
| 84 | ان کو امین رتبہ بے حد بنا دیا |
| 85 | ہر ایک دل میں ہے جائے محمد عربی |
| 86 | جب دی اماں نہ سایۂ دیوار نے مجھے |
| 87 | روح تشنہ کو مئے عشق سے سرشار کریں |
| 88 | جو دل کو طیبہ پہ کر کے نثار ناز کرے |
| 89 | حشر کے روز وہی سب سے نمایاں ہوگا |
| 90 | جہاں میں نورِ رسالت مآب آتا ہے |
| 91 | دیار طیبہ کے جانے والے رواں دواں جب نظر ہیں آئے |
| 92 | کوئی اصحاب سرکار سے پوچھ لے رکھتی ہے کیا نظر مصطفیٰ کی نظر |
| 93 | حبیب حق کا ہو جس میں ظہور کیا کہنا |
| 94 | تعبیر چاہتا ہوں یہ دیکھا ہے خواب میں |
| 95 | ربط ہو جائے جو پیدا بخدا طیبہ سے |
| 96 | درخشاں نور خالق کا ستارا ہے مدینے میں |
| 97 | مدینے میں تن خاکی اگر بے جاں نہیں ہوتا |
| 98 | ہے جلوہ گر جو آئینہ ہے شانِ کبریائی کا |
| 99 | حاصل شوق حضوری نہیں حسرت کے سوا |
| 100 | انجام میرا تھا نہ حصار خطر میں ہے |
| 101 | میں نعت کہوں کب مجھے تمئیز سخن ہے |
| 102 | تری رفعتوں کو سمجھ سکے یہ کہاں کسی کی مجال ہے |
| 103 | آپ ہیں وجہ خلقت آدم محسن انساں رحمت عالم |
| 104 | جلوہ ذات محمد سے شناسائی ہو |
| 105 | تجلی روکش خلد بریں معلوم ہوتی ہے |
| 106 | نظر حضور کی اٹھی کس اہتمام کے بعد |
| 107 | خدا نے آپ کو شیریں مقال رکھا ہے |
| 108 | طیبہ دربار چلیں طیبہ دربار چلیں |
| 109 | کونین کا مختار نہ ہوگا نہ ہوا ہے |
| 110 | ہم گنہگاروں کے حق میں تھی وہ نعمات کی رات |
| 111 | نعل حضور تاج سر آسماں بنی |
| 112 | دیکھو یہ گلی کوچے یہ بام اور یہ در تو دیکھو |
| 113 | فغان عشق نبی بے اثر نہیں ہوتی |
| 114 | مقام قرب کیا ہے اور کیا شان محمد ہے |
| 115 | بس ایک سہارے پر سر حشر چلے ہیں |
| 116 | کہیو نبی جی سے اوری بیریا |
| 117 | ضو بار مدینہ کی سحر دیکھ رہے ہیں |
| 118 | مدینے والے کا جلوہ ہے میری آنکھوں میں |
| 119 | گرمائے دل جو گرمئ محشر تو کیا کریں |
| 120 | مثل بھی کوئی نہیں جب مرے آقا تیرا |
| 121 | نہیں فقط اختیار امت مدینے والے کے ہاتھ میں ہے |
| 122 | چھائی ہے ہر طرف جہل کی تیرگی آؤ طیب چلیں آؤ طیبہ چلیں |
| 123 | اسلام کے انوار ہیں اور قلب عمر ہے |
| 124 | ہیں نقش قدوم شاہ ہدی طیبہ کی منور گلیوں میں |
| 125 | زندہ رہنے کی ادا سکھلا گیا بطحی کا چاند |
| 126 | مختار نظام کون و مکاں ہے ذات مدینے والے کی |
| 127 | لے چلی ہے مجھے اے حسرت دیدار کہاں |
| 128 | باعث ابتدا حاصل انتہا مرحبا مرحبا يا حبيب خدا |
| 129 | بنام رند طیبہ حوض کوثر جاگ جاتا ہے |
| 130 | ذات سرکار جلوہ نما ہو گئی |
| 131 | جو ان کو دیکھ سکے وہ نظر عبادت ہے |
| 132 | اے شوق دید گنبد خضرا ہے سامنے |
| 133 | مدحت کا کیسے پورا ہو ارمان یا نبی |
| 134 | ادب شناسی ہے محو حیرت شعور بھی پیچ و تاب میں ہے |
| 135 | طیبہ کا تقدس تھا کہاں آپ سے پہلے |
| 136 | ذات محمدی پہ نظر ہے خدا کے بعد |
| 137 | عالم ہجر میں جب ذکرِ مدینہ آیا |
| 138 | بیاں کیسے بھلا اس کا کمال حسن سیرت ہو |
| 139 | جہاں ظلمتوں کا گزر نہ ہو وہ مقام مرکز نور ہے |
| 140 | وہ ذات پیشوائے مرسلاں ہے |
| 141 | بن کر رہا یہ غم میں پیامی سرور کا |
| 142 | آئیے مل کے پڑھیں ان پر درود |
| 143 | کام تعلیم رسول عربی آہی گئی |
| 144 | نظام حشر زیر اختیار مصطفیٰ ہوگا |
| 145 | ایک دیوانہ اور پاوں اسپر دھرے چومے جس خاک نے مصطفیٰ کے قدم |
| 146 | جذب جنوں ہے رہبر اور شوق ہمسفر ہے |
| 147 | وہ جذب نظر دے دے یا رب تو ان میری بینا آنکھوں میں |
| 148 | ٹھوکر میں تیری شاہوں کی شاہی |
| 149 | ذوق طلب معذور نہیں ہے |
| 150 | عشق محمد عام نہیں ہے |
| 151 | میں جب بھی ذکر محمد زباں پہ لاؤں گا |
| 152 | جلال معبودیت ہے پنہاں عجیب خاشاک بندگی میں |
| 153 | چلے تمہاری جو زندگی سے سبق تمہارے غلام لیکر |
| 154 | نور مجسم رحم کے پیکر صلی اللہ علیہ وسلم |
| 155 | چمن میں خزاں کے قدم ڈگمگائے محمد جو آئے |
| 156 | دل سے احمد کا جب سلسلہ مل گیا |
| 157 | ماه نبوت شاه مدینہ |
| 158 | اپنے انجام سے دل پریشان تھا فرد عصیاں تھی روز جزا ہاتھ میں |
| 159 | یہ کالی گھٹائیں یہ فضائیں یہ نظارہ |
| 160 | نہ خوف سزا اور نہ بیم قیامت |
| 161 | وفور عشق میں وہ بھی مقام آتا ہے |
| 162 | خلق محشر میں تسکین پاجائیگی |
| 163 | مصطفیٰ کی جو الفت نہیں |
| 164 | نظام جبر مٹا شکر کا ما مقام آیا |
| 165 | مستحق کر چکی جب سزا کا حشر میں دست و پا کی گواہی |
| 166 | جو روح کانپی بخوف عصیاں شفیع محشر کی یاد آئی |
| 167 | کیوں ظلمتیں ہیں توڑ رہی دم نہ پوچھیے |
| 168 | مصطفى صل علی صل علی صل علی |
| 169 | ساتھی جی گھبرائے نبی کی بات کرو |
| 170 | انوار حریم یزداں میں رہتے ہیں جہاں سرکار مرے |
| 171 | بیکس پہ ترس کھاؤ مدینے کی ہواؤ |
| 172 | با وصف تمنا آج تلک ہم خود تو مدینے جا نہ سکے |
| 173 | ذکرِ معراج کی محفل ہے بپا آج کی رات |
| 174 | ادیب سہل نہیں شرح شانِ مصطفوی |
| 175 | نور خیر البشر دیکھتے ره گئے |
| 176 | وہی ہستی جو آفت ہے بلا ہے |
| 177 | تعصب کے اندھیروں میں محبت کا اجالا ہے |
| 178 | یہ رہ گئے مہ و اختر وہ عرش باری ہے |
| 179 | بلائیں اگر پاس سرکار میرے |
| 180 | اے چرخ مہر و ماہ کا اپنے جواب دیکھ |
| 181 | کیا جو ذکر نبوت حیات جھوم اٹھی |
| 182 | یہ تڑپ یہ سوز یہ سوزشیں دل مضطرب تری بھول ہے |
| 183 | وجہ ناز رسل باعث جزو کل حاصل کن فکاں جلوہ افروز ہیں |
| 184 | ادھر بھی وہ ہے ادھر بھی وہ ہے، ہے صرف پردے کی دلنوازی |
| 185 | اے فدائیے خیر الوریٰ جو ترا سلسلہ ہے مدینے کے دربار سے |
| 186 | مقصد حسن یقیں ہو یا محمد مصطفیٰ |