حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

فہرست نعت خواجہ سید مصباح المراد مکن پوری

نمبرعنوان
1اے میرے سرکار مجھکو رکھنا برائیوں سے بچا بچا کے
2اللہ اللہ شمع غار حرا صل علیٰ
3سامنے جب نبی کا در ہوگا
4مصطفیٰ آئینۂ دل کو جِلا دیتے ہیں
5وہ جو ہیں حبیبِ کبریا اپنا جیسا کہتا ہے انہیں
6سرکار کے کب در کی طرف دیکھ رہے ہیں
7بنی ہے سرمۂ چشم فلک مٹی مدینے کی
8کاش وہ نور کا بہتا ہوا دریا دیکھیں
9رازق نہیں ہو قاسم فضل خدا تو ہو
10مصطفی صل علی صل علی صل علی
11جگمگاتا ہے ہر ایک گوشہ ذرے ذرے میں تابندگی ہے
12جلوے بکھیرتا ہوا چمکا حرا کا چاند
13یہ اعجاز عشق حبیب خدا ہے
14جسے سیار عرش ولا مکاں کہنا ضروری ہے
15ہے قرب نبی جاں نثاروں کا جھرمٹ
16ہے ساحل مراد سفینے سے دور دور
17کرم یہ نہیں مجھ پہ کم مصطفیٰ کا
18نیل و فرات کی نہ سمندر کی بات ہے
19دکھلا دے کبھی صورت اپنیباے شہر نبی اے شہر نبی
20سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان الله
21ہر طرف چھائی تھی گمرہی کی گھٹا وہ تو کہئے حبیب خدا آگئے
22جنوں طیبہ کا سر میں پاؤں میں زنجیر مجبوری
23جس دن سے خضر ا د یکھا ہے
24رس گھول رہا ہے اندازِ گفتار مدینے والے کا
25دو عالم کے مختار خیر البشر
26مقدر سے کبھی پہونچے جو ہم خضرا کے سائے میں
27اگر تقدیر میں طیبہ نہیں ہے
28گود میں آفتاب حرا ہے
29منزل عشق کے آثار نظر آتے ہیں
30بھرے آنکھوں میں آنسو ہیں لگے ہونٹوں پہ تالے ہیں
31قرب خضرا ہی میں جینے کی دعا مانگی ہے
32میرے آقا کی جو نظروں کا اشارہ ہوتا
33اک بھکاری بن کے آیا چاند بھی طیبہ میں ہے
34کیا مرتبہ اعلی ترا خضرا کے مکیں ہے
35اللہ اللہ کیا تری عظمت شہ لولاک ہے
36طیبہ کی ماٹی بھی چندن لاگے
37پھیلا ہر سو ہے تر انور مدینے والے
38الله الله شمع غار حرا صل علیٰ
39اے دائی حلیمہ تری تقدیر بھی کیا ہے
40حشر کے دن گیسوئے آقا کچھ ایسے لہرائے ہیں
41رحمت دو عالم جب اس جہاں میں آئے ہیں
42اجالوں کا انوکھا اک سمندر ہم نے دیکھا ہے
43آمنہ کی گود میں شاہِ مدینہ آگیا
44ہجر طیبہ میں لٹانے کو ہے گو ہر بادل
45کون ہے تجھ سا جو اے آمنہ والے سورج
46اس کی کتاب زیست کا لوگوں ہر اک باب سنہرا ہے
47شاه لولاک لما ہے آمنہ کی گود میں
48مدعا عشق نبی کا بااثر ہونے لگا
49اس کو چھو نہیں سکتے دنیا کے اندھیرے ہیں
50جو خوش نصیب ہمارے نبی سے پیار کریں
51پوچھتے کیا ہو کیا چاہیے
52جس کا طیبہ میں آنا جانا ہے
53ان سے بہ احترام مدینے کے زائر و !
54بنوں ایسا شنا خوان محمد
55اومورے داتا جگ کے تارنہار
56اتنا اثر ہو کاش ہماری دعاؤں میں
57مل گیا تجھکو اذن زیارت ہو مبارک مدینے کے راہی
58حاصل قرآں کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم
59لبریز ہو کے آنکھوں کی چھاگل مہک اٹھے
60دھندلا سا نظر آتا سورج کا نگینہ ہے
61اشک غم میں ترے بن بن کے گہر روشن ہے
62اے آمنہ کے پیارے اے آمنہ کے پیارے
63اک زائر طیبہ یہ کہتا ہوا آیا ہے
64باعث ناز کبریا جیسا
65سنولا گیا ہے نور رخ آفتاب کا
66غموں نے گھیر رکھا ہے سہارا دیجئے آقا
67کہتا ہے نور والے کو اپنا سا آدمی
68بھروسہ ہے مجھے وہ نعت گوئی کا صلہ دیں گے
69انہیں کی یادوں کی نوری محفل سجی ہوئی ہے سجی رہے گی
70دن ہے آقا کا رات آقا کی
71پڑھو درود پڑھو مومنو درود پڑھو
72ہیں ڈراتی ہجر کی پر چھائیاں میرے نبی
73حسن تخیلات کی محفل سجائیے
74آگئے شاہ ہدی آگئے شاہ ہدی
75جو نام مصطفیٰ پر زندگی قربان کرتے ہیں
76نہ شاہی نہ مال اور نہ زر چاہتے ہیں
77ہر ایک طرف ہے دھوم مچی محبوب خدا کی آمد ہے
78لکھا قسمت میں جسکی احمد مختار کا در ہے
79بجھا چراغ ہوں تو مجھ کو روشنی دیدے
80آگیا جگ کا والی ہے آگیا جگ کا والی ہے
81آئے نبیوں کے تاجدار آئے
82یہ تو آقا کی توجہ کا اثر لگتا ہے
83ہو چاند فدا جس پر چہرا ہو تو ایسا ہو
84اب کے نہیں تو پھر سہی آقا کرم فرمائیں گے
85مبارک ہو تجھ کو سفر یہ سہانا مدینے کے راہی
86وطن میں رہ کے خود اپنا ہی گھر اچھا نہیں لگتا
87زلف سر کار جو محشر میں بکھر جائے گی
88وہ آئے نبیوں کے سردار وہ آئے نبیوں کے سردار
89عبث ستاروں کی جستجو میں یہ عمر ساری بسر ہوئی ہے
90جس نے سدا دیں سب کو دعائیں
91سرکار کی آمد ہے سرکار کی آمد ہے
92حسن پر جن کے فدا چاند ستارے ہوں گے
93حقیقتوں سے سجا کوئی خواب دیکھیں گے
94دل کے چمن میں کھل اٹھے عشق نبی کے پھول
95اے جلوه گہِ حامل قرآن مدینہ
96مدینے کی زیارت ہوگئی ہوئی ہے
97یہ نہیں کہتا مجھے ماہِ منور دیدے
98کر پائیں گے کیا ہم پیاسوں کو دنیا کے ستمگر مٹھی میں
99نبی کے ذکر کی جو محفلیں سجاتا ہے
100زائرو با چشم نم کہنا رحمت عالم سے
101جب بھی سرکار کی یاد آنے لگی
102نور کے ہر جانب ہیں نظارے یہ کون آیا ہے
103عشق میں ڈوب کے اک نعت پیمبر لکھ دو
104چشم صحابہ سے دیکھو تو کتنی اچھی لگتی ہے
105سرکار چلے آؤ سرکار چلے آؤ
106لوگو! یہ جلوہ گاہِ رسالت مآب ہے
107پڑے زمین پہ جس دم مرے نبی کے قدم
108اشرفیت کا آدم کو مژدہ ملا آگئے مصطفیٰ آگئے مصطفیٰ
109مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا
110نہ پوچھو حال خوشی کا تھا کیا مدینے میں
111چپے چپے پہ یہاں خلد سجی ہو جیسے
112ہو میرے دل پہ بھی چشم عنایت یا رسول اللہ
113بچہ بچہ ہے وفادار نبی کے گھر کا
114حسین لفظوں کے پیارے گلاب چن چن کر
115جب بڑے گنبد خضری پر نظر کہہ دینا
116خلد ہے جس پر نچھاور اس نگر تک آگیا
117آگئے وہ میرے سر کار آگئے وہ میرے سرکار
118ہم نے تقدیر سے وہ شمع حدا پائی ہے
119زمیں چمکنے لگی آسماں چمکنے لگا
120وہاں ہر طرف نور بکھرا ہوا ہے چلو چل کے دیکھیں دیار مدینہ
121سارے عالم پر کرم بن کر ہے یوں چھایا کہ بس
122رحمتوں بھری ہوا چلی جب مرے حضور آگئے
123خدا سے یہ توفیق مدحت ملی ہے
124زمانے میں بن کر عطاؤں کا ساون نبی آگئے ہیں نبی آگئے ہیں
125زلف آقا جو لہراگئی
126میرے پیارے نبی جی آئے میرے پیارے نبی جی آئے
127امین رحمت یزداں کی آمد آمد ہے
128قسم خدا کی اسے میسر کبھی خدا کی رضا نہیں ہے
129شفاعتوں کا خزانہ نبی کے ہاتھ میں ہے
130فخر مزدوروں کو بخشا ہے رسول پاک نے
131غریق بحر عشق مصطفی ام
132انت لكل رحمۃ انظر الينا يانبی