04/12/2024
آج مرے سرکار کی ذات دن کے دن اور رات کی رات
04/12/2024
سجدے میں آگیا ہے جمال آفتاب کا
04/12/2024
ہوتے ہیں ہم شاد مدار
04/12/2024
آئیں طوفاں جو آنے والے ہیں
04/12/2024
شان مدار دو جہاں دیکھ کے عقل دنگ ہے
04/12/2024
مایوسی کے بندھن سے کر کے آزاد مدار عالم نے
04/12/2024
ہر ایک ذرے سے آشکارا تجلیوں کی بہار دیکھو
04/12/2024
ہر لمحہ ہے نور کی برکھا ایسا لگتا ہے
04/12/2024
بنائے جلوہ بارئی مدار العالمیں رکھ دی
04/12/2024

