ہے انھیں نے پایا عرفان مدار
بن گئے جو بھی اسیران مدار
جس جگہ بھی آپ نے رکھا قدم
ہو گئے آباد وہ ویران مدار
کوئی سمجھا ہی نہیں ہے اجتک
داستاں میری ہے عنوان مدار
وہ مقدر کے دھنی ہیں دوستو
بن کے مہماں کھاتے جو نان مدار
صدقہ جان من کا ان کو دیجئے
حاضر در ہیں غلامان مدار
ٹھوکروں میں أ گیا . تاج شہی
جو ہوئے قسمت سے دربان مدار
سرور کونین ومکاں کا جو نہیں
وہ نہیں میرا ہے فرمان مدار
رحمت رب نے لیا آغوش میں
جو بھی بن جاتا ہے مہمان مدار
ہند میں جو أج یہ اسلام ہے
در حقیقت ہے یہ احسان مدار
غم کا سورج کیا ڈرائے گا مجھے
جب مرے سر پہ ہے دامان مدار
خلد سے بہتر علی ہے گلی
کتنے اعلی ہے یہ اعلان مدار
دونوں ہیں اپنی نظر میں محترم
سنت ہوں یا کہ ہوں سنتان مدار
ان سے راضی ہو گیا پرور دگار
جو شرافت ہیں ثنا خوان مدار
از نتیجہء فکر
مولانا شرافت علیشاہ
مداری سرنیاں سی بی گنج
بریلی یو پی

