جب سنا کربل کا قصہ آنکھ سے آنسو بہے
یک بیک ہے دل یہ کہتا آنکھ سے آنسو بہے
لاش اکبر دیکھ کر شہ ہو گئے بالکل نڈھال
منہ کو آیا ہے کلیجہ آنکھ سے آنسو بہے
کرنے آئے تھے سلام آخری حضرت حسین
دیکھ کر نانا کا روزہ انکھ سے آنسو بہے
جب نہ لے جا پائے پانی حضرت عباس کو
یاد آئی ہے سکینہ آنکھ سے آنسو بہے
ساتھ میں روئی ہیں حوریں جنتوں کی بالیقیں
آپ کی جب بنت زہرا آنکھ سے آنسو بہے
جسم تیروں سے ہے چھلنی کرب سے بوجھل ہے دل
آخری ہے شہ کا سجدہ آنکھ سے آنسو بہے
ہو گیا سنت غم شبیر میں رونا شجر
آپ کی جب شاہ طیبہ آنکھ سے آنسو ہے
jab suna karbal ka qissa aankh se aansu bahe












