| 1 | فرقت غم سے نہ یوں تڑپایئے |
| 2 | ہاتھ اٹھانا ہے بس دعا کے لئے |
| 3 | دور نظروں سے جو مدینہ ہے |
| 4 | پلانے جام وحدت سرور کون و مکاں آۓ |
| 5 | کہتا سنسار ہے مدینے میں |
| 6 | یہ صداۓ مکہ ہے مصطفے کی أمد ہے |
| 7 | جشن رسول پاک منایا کرینگے ہم |
| 8 | کوئ رزاق اور وہاب نہیں |
| 9 | کیا بھاۓ کوئی اس کو زمانے کا خزینہ |
| 10 | کرتے ہیں وہ قرآں کی تلاوت گھڑی گھڑی |
| 11 | وہیں ہے ہم فقیروں کا ٹھکانا یا رسول اللہ |
| 12 | ہر گھڑی اور شام و سحر آپ کی |
| 13 | بات ہم سے کیجیئے گلشن نہ لالہ زار کی |
| 14 | جیسے ہے ممتاز تر امت میں آلِ مصطفیٰ |
| 15 | وہ جنکے دلوں میں مکیں ہیں محمد |
| 16 | جب فاطمہ کے آئے ہیں بابا زمین پر |
| 17 | میرے سرکار سے دل جسنے لگایا ہی نہیں |
| 18 | فرماتا خود خدا ہے لقد جاءکم رسول |
| 19 | اس پہ قربان ہیں ثقلین مدینے والے |
| 20 | خوش ہے یہ سوچ سوچ کے بیمار مصطفی |
| 21 | گیسوئے رحمت عالم کی ہوا کافی ہے |