نور محمدی سے منور مدار ہیں
باغ علی کے ایسے گل تر مدار ہیں
خالی در مدار سے کوئی نہیں گیا
ایسا سخاوتوں کا سمندر مدار ہیں
أقائے کائنات کی ہیں آل اس لیئے
ہر ایک سے جہان میں بہتر مدار ہیں
اٹھے ہماری سمت کبھی چشم التفات
ہم بھی تمہارے ادنی ثناگر مدار ہیں
کرتے طواف جسکا دوعالم ہیں أج بھی
قطب جہاں ولا کا وہ محور مدار ہیں
ایسا لگا کہ جیسے مدینے میں آ گیا
دیکھے تمہارے در کے جو منظر مدار ہیں
جو منکر مدار ہیں وہ غور سے سنیں
نور نگاہ فاتح خیبر مدار ہیں
تنہا عرب سے أئے تھے سرکار ہند میں
واللہ أج دیکھیئے گھر گھر مدار ہیں
جس نے بھی أپکا در وہ یہ کہہ اٹھا
سوئے ہوئے جگاتے مقدر مدار ہیں
ان کو گلے سے اپنے لگایئں گے مصطفے
دنیا میں جو بھی أپ کے نوکر مدار ہیں
یہ بات جانتے ہیں دیانت جسے ملی
ہندوستاں کے محسن و سرور مدار ہیں
روشن جہان جن کی ضیاؤں سےہو گیا
دین نبی کے وہ مہ و. اختر مدار ہیں
خوشبو سے جس کی سارا زمانہ مہک اٹھا
ایسے نبی کے دیں سے معطر مدار ہیں
گمراہ ان کو کوئی شرافت نہ کر سکا
جن کو ملے نصیب سے رہبر مدار ہیں
از نتیجہء فکر
مولانا شرافت علیشاہ
مداری سرنیاں سی بی گنج بریلی یو پی

