حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

شبیر نے با چشم نم جس دم پڑھا صغری کا خط

On: July 22, 2025 8:44 PM
Follow Us:
misbahul murad

شبیر نے با چشم نم جس دم پڑھا صغری کا خط
کرب و بلا میں کر گیا محشر بپا صغریٰ کا خط

وہ غم سے بیخود ہو گیا جس نے سنا صغری کا خط
لگتا کتاب درد ہے یہ غمزده صغری کا خط

آہیں کراہیں اور غم تھی اسمیں روداد الم
زخمی دلوں کو اور بھی تڑپا گیا صغریٰ کا خط

ٹوٹے ہیں دل آنکھیں ہیں نم ہیں دم بخود اہلِ حرم
اللہ جانے کہہ گیا کیا ماجرا صغری کا خط

آتی ہے ہر ہر لفظ سے وعدہ نبھانے کی صدا
دیتا رہے گا حشر تک درس وفا صغری کا خط

سو کر اٹھے جب اصغر بے شیر دے دینا اسے
رکھنا حفاظت سے ذرا اے کر بلا صغری کا خط

اللہ پہونچائے اسے فردوس میں محشر کے دن
جو کر بلا والوں تلک پہونچا گیا صغری کا خط

پھر اسطرح بچھڑے کوئی بیٹی نہ اپنے باپ سے
آخر میں شاید کر رہا ہے یہ دعا صغری کا خط

تھامے ہوئے دل غمزدہ تکتے رہے اس کو شہا
قاصد جو طیبہ کی کی طرف دیگر چلا صغری کا خط

ڈھونڈھونگا میں آفاق میں رکھ لوں گا دل کے طاق میں
“مصباح” قسمت سے مجھے جو مل گیا صغری کا خط

shabbir ne ba chashme nam jis dam padha sughra ka khat

Join WhatsApp

Join Now

Join Telegram

Join Now

Leave a Comment