سنبھالو اپنے دل کو یار برسنے والے ہیں انوار مدار اعظم کے
سنبھالو اپنے دِل کو یار برسنے والے ہیں انوار مدارِ اعظم کے ٹکرانا نہیں آساں ہم سے ہم سب ہیں
سنبھالو اپنے دِل کو یار برسنے والے ہیں انوار مدارِ اعظم کے ٹکرانا نہیں آساں ہم سے ہم سب ہیں
اے شفیعِ روزِ محشر آپ سا کوئ نہیںمالکِ تسنیم و کوثر آپ سا کوئ نہیں سروروں کے آپ سرور آپ
طفیلِ مصطفے یا رب ہمیں ایماں کی دولت دےمحمد مصطفے شاہِ دو عالم کی محبت دے خداوندِ دو عالم ہم
آقا کی میلاد مناؤ اتنا تو کر سکتے ہوتم اپنا گھربار سجاؤ اتنا تو کر سکتے ہو رب نے خوشی
جب مدحت سرکار میں کرنے ہی لگا تھاہر طرح سے دامن مرا بھرنے ہی لگا تھا سرکار جب آئے تو
ہند پر ہیں جب پڑے تیرے قدم زندہ مدارگرپڑے سجدے میں سب جھوٹے صنم زندہ مدار ہورہے ہیں چارسو ظلم
ہیں ابنِ علی حیدر بابائے قوم و ملتسب سنیوں کے رہبر بابائے قوم و ملت علم و ہنر کے پیکر
سائلوں کے لب پہ بس قطب جہاں کی بات ہےدامن امید پر ہے بٹ رہی خیرات ہے دین اور ایماں
در مدار کے ٹکڑوں پہ جو بھی پلتے ہیںزمانے بھر میں وہ سب کامیاب رہتے ہیں زمانے بھر کے لبوں
ابر رحمت بن کے دیکھو ہر طرف چھایا ہے چاندساری خوشیاں اور مسرت لیکے اب آیا ہے چاند عاشقان قطب