در مدار کے خاک و دھواں سے نسبت ہے
میں خوش نصیب ہوں قطب جہاں سےنسبت ہے
جو کوئ پوچھے اگر أپکی ہے کیا نسبت ہے
تو کہنا محسن ہندو ستاں سے نسبت ہے
وہ جسکی شان میں آئی ہے آیت تطہیر
مجھے مدار کےاس خانداں سے نسبت ہے
جہاں کےسارےسلاسل میں فیض جسکاہے
ہماری ہاں اسی سیل رواں سے نسبت ہے
وہ جس کی آخری منزل ہے روضۂ آقا
ہمیں مدارکےاس کارواں سےنسبت ہے
طواف روضے کا کر کے کہیں ابابیلیں
ہمیں دیار مدار جہاں سے نسبت ہے
جو کوئ پوچھے تو کہدینا صاف یہ ان سے
جہاں سے بنتے ولی ہیں وہاں سے نسبت ہے
ہے جسکے دم سے مہک اٹھا گلشن ہستی
مجھے ہے ناز اسی گلستاں سے نسبت ہے
ہمیشہ ہرگھڑی ہرپل دل شرافت کو
قدومِ قطب جہاں کےنشاں سےنسبت ہے












