| 1 | اے میرے سرکار مجھکو رکھنا برائیوں سے بچا بچا کے |
| 2 | اللہ اللہ شمع غار حرا صل علیٰ |
| 3 | سامنے جب نبی کا در ہوگا |
| 4 | مصطفیٰ آئینۂ دل کو جِلا دیتے ہیں |
| 5 | وہ جو ہیں حبیبِ کبریا اپنا جیسا کہتا ہے انہیں |
| 6 | سرکار کے کب در کی طرف دیکھ رہے ہیں |
| 7 | بنی ہے سرمۂ چشم فلک مٹی مدینے کی |
| 8 | کاش وہ نور کا بہتا ہوا دریا دیکھیں |
| 9 | رازق نہیں ہو قاسم فضل خدا تو ہو |
| 10 | مصطفی صل علی صل علی صل علی |
| 11 | جگمگاتا ہے ہر ایک گوشہ ذرے ذرے میں تابندگی ہے |
| 12 | جلوے بکھیرتا ہوا چمکا حرا کا چاند |
| 13 | یہ اعجاز عشق حبیب خدا ہے |
| 14 | جسے سیار عرش ولا مکاں کہنا ضروری ہے |
| 15 | ہے قرب نبی جاں نثاروں کا جھرمٹ |
| 16 | ہے ساحل مراد سفینے سے دور دور |
| 17 | کرم یہ نہیں مجھ پہ کم مصطفیٰ کا |
| 18 | نیل و فرات کی نہ سمندر کی بات ہے |
| 19 | دکھلا دے کبھی صورت اپنیباے شہر نبی اے شہر نبی |
| 20 | سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان الله |
| 21 | ہر طرف چھائی تھی گمرہی کی گھٹا وہ تو کہئے حبیب خدا آگئے |
| 22 | جنوں طیبہ کا سر میں پاؤں میں زنجیر مجبوری |
| 23 | جس دن سے خضر ا د یکھا ہے |
| 24 | رس گھول رہا ہے اندازِ گفتار مدینے والے کا |
| 25 | دو عالم کے مختار خیر البشر |
| 26 | مقدر سے کبھی پہونچے جو ہم خضرا کے سائے میں |
| 27 | اگر تقدیر میں طیبہ نہیں ہے |
| 28 | گود میں آفتاب حرا ہے |
| 29 | منزل عشق کے آثار نظر آتے ہیں |
| 30 | بھرے آنکھوں میں آنسو ہیں لگے ہونٹوں پہ تالے ہیں |
| 31 | قرب خضرا ہی میں جینے کی دعا مانگی ہے |
| 32 | میرے آقا کی جو نظروں کا اشارہ ہوتا |
| 33 | اک بھکاری بن کے آیا چاند بھی طیبہ میں ہے |
| 34 | کیا مرتبہ اعلی ترا خضرا کے مکیں ہے |
| 35 | اللہ اللہ کیا تری عظمت شہ لولاک ہے |
| 36 | طیبہ کی ماٹی بھی چندن لاگے |
| 37 | پھیلا ہر سو ہے تر انور مدینے والے |
| 38 | الله الله شمع غار حرا صل علیٰ |
| 39 | اے دائی حلیمہ تری تقدیر بھی کیا ہے |
| 40 | حشر کے دن گیسوئے آقا کچھ ایسے لہرائے ہیں |
| 41 | رحمت دو عالم جب اس جہاں میں آئے ہیں |
| 42 | اجالوں کا انوکھا اک سمندر ہم نے دیکھا ہے |
| 43 | آمنہ کی گود میں شاہِ مدینہ آگیا |
| 44 | ہجر طیبہ میں لٹانے کو ہے گو ہر بادل |
| 45 | کون ہے تجھ سا جو اے آمنہ والے سورج |
| 46 | اس کی کتاب زیست کا لوگوں ہر اک باب سنہرا ہے |
| 47 | شاه لولاک لما ہے آمنہ کی گود میں |
| 48 | مدعا عشق نبی کا بااثر ہونے لگا |
| 49 | اس کو چھو نہیں سکتے دنیا کے اندھیرے ہیں |
| 50 | جو خوش نصیب ہمارے نبی سے پیار کریں |
| 51 | پوچھتے کیا ہو کیا چاہیے |
| 52 | جس کا طیبہ میں آنا جانا ہے |
| 53 | ان سے بہ احترام مدینے کے زائر و ! |
| 54 | بنوں ایسا شنا خوان محمد |
| 55 | اومورے داتا جگ کے تارنہار |
| 56 | اتنا اثر ہو کاش ہماری دعاؤں میں |
| 57 | مل گیا تجھکو اذن زیارت ہو مبارک مدینے کے راہی |
| 58 | حاصل قرآں کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم |
| 59 | لبریز ہو کے آنکھوں کی چھاگل مہک اٹھے |
| 60 | دھندلا سا نظر آتا سورج کا نگینہ ہے |
| 61 | اشک غم میں ترے بن بن کے گہر روشن ہے |
| 62 | اے آمنہ کے پیارے اے آمنہ کے پیارے |
| 63 | اک زائر طیبہ یہ کہتا ہوا آیا ہے |
| 64 | باعث ناز کبریا جیسا |
| 65 | سنولا گیا ہے نور رخ آفتاب کا |
| 66 | غموں نے گھیر رکھا ہے سہارا دیجئے آقا |
| 67 | کہتا ہے نور والے کو اپنا سا آدمی |
| 68 | بھروسہ ہے مجھے وہ نعت گوئی کا صلہ دیں گے |
| 69 | انہیں کی یادوں کی نوری محفل سجی ہوئی ہے سجی رہے گی |
| 70 | دن ہے آقا کا رات آقا کی |
| 71 | پڑھو درود پڑھو مومنو درود پڑھو |
| 72 | ہیں ڈراتی ہجر کی پر چھائیاں میرے نبی |
| 73 | حسن تخیلات کی محفل سجائیے |
| 74 | آگئے شاہ ہدی آگئے شاہ ہدی |
| 75 | جو نام مصطفیٰ پر زندگی قربان کرتے ہیں |
| 76 | نہ شاہی نہ مال اور نہ زر چاہتے ہیں |
| 77 | ہر ایک طرف ہے دھوم مچی محبوب خدا کی آمد ہے |
| 78 | لکھا قسمت میں جسکی احمد مختار کا در ہے |
| 79 | بجھا چراغ ہوں تو مجھ کو روشنی دیدے |
| 80 | آگیا جگ کا والی ہے آگیا جگ کا والی ہے |
| 81 | آئے نبیوں کے تاجدار آئے |
| 82 | یہ تو آقا کی توجہ کا اثر لگتا ہے |
| 83 | ہو چاند فدا جس پر چہرا ہو تو ایسا ہو |
| 84 | اب کے نہیں تو پھر سہی آقا کرم فرمائیں گے |
| 85 | مبارک ہو تجھ کو سفر یہ سہانا مدینے کے راہی |
| 86 | وطن میں رہ کے خود اپنا ہی گھر اچھا نہیں لگتا |
| 87 | زلف سر کار جو محشر میں بکھر جائے گی |
| 88 | وہ آئے نبیوں کے سردار وہ آئے نبیوں کے سردار |
| 89 | عبث ستاروں کی جستجو میں یہ عمر ساری بسر ہوئی ہے |
| 90 | جس نے سدا دیں سب کو دعائیں |
| 91 | سرکار کی آمد ہے سرکار کی آمد ہے |
| 92 | حسن پر جن کے فدا چاند ستارے ہوں گے |
| 93 | حقیقتوں سے سجا کوئی خواب دیکھیں گے |
| 94 | دل کے چمن میں کھل اٹھے عشق نبی کے پھول |
| 95 | اے جلوه گہِ حامل قرآن مدینہ |
| 96 | مدینے کی زیارت ہوگئی ہوئی ہے |
| 97 | یہ نہیں کہتا مجھے ماہِ منور دیدے |
| 98 | کر پائیں گے کیا ہم پیاسوں کو دنیا کے ستمگر مٹھی میں |
| 99 | نبی کے ذکر کی جو محفلیں سجاتا ہے |
| 100 | زائرو با چشم نم کہنا رحمت عالم سے |
| 101 | جب بھی سرکار کی یاد آنے لگی |
| 102 | نور کے ہر جانب ہیں نظارے یہ کون آیا ہے |
| 103 | عشق میں ڈوب کے اک نعت پیمبر لکھ دو |
| 104 | چشم صحابہ سے دیکھو تو کتنی اچھی لگتی ہے |
| 105 | سرکار چلے آؤ سرکار چلے آؤ |
| 106 | لوگو! یہ جلوہ گاہِ رسالت مآب ہے |
| 107 | پڑے زمین پہ جس دم مرے نبی کے قدم |
| 108 | اشرفیت کا آدم کو مژدہ ملا آگئے مصطفیٰ آگئے مصطفیٰ |
| 109 | مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا |
| 110 | نہ پوچھو حال خوشی کا تھا کیا مدینے میں |
| 111 | چپے چپے پہ یہاں خلد سجی ہو جیسے |
| 112 | ہو میرے دل پہ بھی چشم عنایت یا رسول اللہ |
| 113 | بچہ بچہ ہے وفادار نبی کے گھر کا |
| 114 | حسین لفظوں کے پیارے گلاب چن چن کر |
| 115 | جب بڑے گنبد خضری پر نظر کہہ دینا |
| 116 | خلد ہے جس پر نچھاور اس نگر تک آگیا |
| 117 | آگئے وہ میرے سر کار آگئے وہ میرے سرکار |
| 118 | ہم نے تقدیر سے وہ شمع حدا پائی ہے |
| 119 | زمیں چمکنے لگی آسماں چمکنے لگا |
| 120 | وہاں ہر طرف نور بکھرا ہوا ہے چلو چل کے دیکھیں دیار مدینہ |
| 121 | سارے عالم پر کرم بن کر ہے یوں چھایا کہ بس |
| 122 | رحمتوں بھری ہوا چلی جب مرے حضور آگئے |
| 123 | خدا سے یہ توفیق مدحت ملی ہے |
| 124 | زمانے میں بن کر عطاؤں کا ساون نبی آگئے ہیں نبی آگئے ہیں |
| 125 | زلف آقا جو لہراگئی |
| 126 | میرے پیارے نبی جی آئے میرے پیارے نبی جی آئے |
| 127 | امین رحمت یزداں کی آمد آمد ہے |
| 128 | قسم خدا کی اسے میسر کبھی خدا کی رضا نہیں ہے |
| 129 | شفاعتوں کا خزانہ نبی کے ہاتھ میں ہے |
| 130 | فخر مزدوروں کو بخشا ہے رسول پاک نے |
| 131 | غریق بحر عشق مصطفی ام |
| 132 | انت لكل رحمۃ انظر الينا يانبی |