| 1 | وہ جس کو حسنین کا نانا اچھا لگتا ہے |
| 2 | آئی لَو محمد صلی اللہ آئی لَو محمد صلی اللہ |
| 3 | غم کے مارے گیت خوشی کے گائیں گے |
| 4 | یہ شرف پاؤں میں نعت پڑھتے ہوئے |
| 5 | نوری شام و سحر دیکھتے رہ گئے |
| 6 | نور کا جو آئنہ ہیں سر سے لیکر پاؤں تک |
| 7 | چھوڑو جہان بھر کے قصیدے نئے نئے |
| 8 | ڈالیاں لب پر درودوں کی سجا کر بار بار |
| 9 | عرش پر نور محمد جلوہ گر پہلے سے تھا |
| 10 | کہ رہا ہے یہی سنسار اگر تم چاہو |
| 11 | بنایا مٹی تو ایسا بنا دیا ہوتا |
| 12 | آمنہ کے پیارے کالی کملی والے |
| 13 | میرے سرکار کو رب نے بنایا خوبصورت ہے |
| 14 | محشر کے روز شافع محشر کے آس پاس |
| 15 | پھیلی عالم میں ضیاء ہے یہ خوشی کی بات ہے |
| 16 | دیکھنے آقا کا نوری در بار طیبہ چل |
| 17 | نہ گلستاں سے نہ گل اور کلی سے پیار کرو |
| 18 | کتنی بلند و بالا ہے عظمت رسول کی |
| 19 | صل علی محمد صلی علی محمد صل علی محمد صلی علی محمد |
| 20 | میری ہی نہیں سارے زمانے کی خوشی ہے |
| 21 | وہ چاہیں سورج پلٹائیں اُن کے ئے سب ممکن ہے |
| 22 | پیمبروں کے پیمبر کوئی جواب نہیں |
| 23 | ہر ایک سو جو اُجالا ہے اور کچھ بھی نہیں |
| 24 | نور سراپا شافع محشر کون تمہارے جیسا ہے |
| 25 | سارے غموں کو ہم بھول جائیں |
| 26 | ہے جلوہ گر شاہ امم سوچ سمجھ کر |
| 27 | دی منادی نے ندا ہے آمنہ بی بی کے گھر |
| 28 | نور مجسم نور مجسم |
| 29 | آقا کی میلاد ہے آقا کی میلاد ہے |
| 30 | دل میرا یہی شام و سحر بول رہا ہے |
| 31 | چاند ستارے جس پر ہیں قربان نبی کا چہرا ہے |
| 32 | نبیوں کے سلطان رسول عربی ہیں |
| 33 | یا رسول اللہ یا رسول الله چومتا ہے قدم تیرا عرش علی |
| 34 | کہہ رہی ہے ہر کلی لب کھول کر |
| 35 | آئے آئے محمد صل اللہ آئے آئے محمد صل الله |
| 36 | جو دکھے دل کا ہے مدعا آگئے |
| 37 | انہیں سب پتا ہے انہیں سب پتا ہے |
| 38 | دشت زمیں پر نور کا ایسا ساگر شہر نبی ہے |
| 39 | لبیک یا رسول اللہ لبیک یا رسول الله |
| 40 | کرم کی لگائے ہوئے آس آقا میں راہ نبی میں کب سے کھڑا ہوں |
| 41 | کلیوں کی چٹک پھولوں کی مہک کوئیل کی چہک جگنو کی چمک |
| 42 | ہر دشت مثل لالۂ و گلزار سج گئے |
| 43 | سارا عالم ہے منور کملی والے آگئے |
| 44 | جہاں انوار کے بادل ہر ایک جانب برستے ہیں |
| 45 | بند ہو گئے سارے مشکلوں کے دروازے |
| 46 | راہ ہیں پُر نور سفر ہے طیبہ کا |
| 47 | دولت کی ہے طلب نہ خزینہ پسند ہے |
| 48 | نہ ہے ستاروں کا نہ ماہتاب کا چرچا |