| 1 | شاھد حرف حرف ہے خدا کے کلام کا |
| 2 | جہاں ستم ہی کرے گا چلو مدینے چلیں |
| 3 | نور خضریٰ سے دل جگمگا لیجئے |
| 4 | کون ایسا آیا ہے آمنہ ترے گھر میں |
| 5 | محشر میں انبیاء کو ضرورت ہے آپ کی |
| 6 | جو پاؤں رکھدیں تو ڈوبا تارہ کرے زیارت نکل نکل کے |
| 7 | یکساں نہیں ہیں رہتے جہاں میں کسی کے دن |
| 8 | رسولوں میں ذیشان ہیں کملی والے |
| 9 | نہ جانے کس قدر ہیں بے بہا کانٹے مدینے کے |
| 10 | ادب سے چوم لے ہر ذرہ تو مدینے کا |
| 11 | آقائے دوجہاں پہ جو قربان ہوگئے |
| 12 | ہر ظلم ہوا برباد کہ آئے میرے پیار نبی |
| 13 | کاش طیبہ میں آقا بلائیں |
| 14 | سر سجدهٔ خالق میں ہے اور لب پہ دعا ہے |
| 15 | کون یہاں ہے کس کا ساتھی یہ مطلب کی دنیا ہے |
| 16 | یوں عام زمانے میں کرو پیار کی باتیں |
| 17 | طیبہ کی آرزو میں جئے جارہا ہوں میں |