| 1 | اے شفیع روز محشر آپ سا کوئ نہیں |
| 2 | جب مدحت سرکار میں کرنے ہی لگا تھا |
| 3 | بیاں کرتے ہیں سب ہی عظمتیں شہر مدینہ کی |
| 4 | وہ جس مکاں سے دوستو طیبہ قریب ہے |
| 5 | اپنی ناکامی پہ نادم ہیں جہالت کے چراغ |
| 6 | رب تعالی کی مجھے پہلے ثنا کرنا ہے |
| 7 | انس و جن پہ دوستوجس کا ہمیشہ راج ہے |
| 8 | روشن جہاں ہے جس سے وہ انوار آپ ہیں |
| 9 | جو دیکھو گنبد خضریٰ تو تم ددور پڑھو |
| 10 | جس نے بھی دنیا میں آقا سے محبت کی ہے |
| 11 | مسرت دینے بندوں کو ربیع النور آیا ہے |
| 12 | زندگی کا ہے ہماری مشغلہ صل على |
| 13 | اک عبد رحمان کی آمد آمد ہے |
| 14 | ہے لبوں پر سب کے نغمہ عید میلاد النبی ﷺ |
| 15 | ہے مل گیا اسلام محمد کے کرم سے |
| 16 | ہمکو ہے ملا ایماں ذات مصطفائی سے |
| 17 | برستے نور کے دیکھو سدا بادل مدینے میں |
| 18 | کونین میں اعلیٰ ہے انسان مدینے کا |
| 19 | سب سے اعلیٰ سب سے افضل آپ ہی کا نام ہے |
| 20 | اس کا دنیا میں بول بالا ہے |
| 21 | آمنہ کے لال مرحبا |
| 22 | مجھے تو خدا کا پیارا ہے کافی |
| 23 | نوری بشر کو بس بشر کہتے ہو تم نادان ہو |
| 24 | رکھیں عداوتیں جو خدا کے حبیب سے |
| 25 | جب زباں پر پیارے آقا کا ترانہ آگیا |
| 26 | آپ جو آئے نظر محبوب رب |
| 27 | کیوں نہ جاگے نصیبہ مرا یانبی |
| 28 | مسلمانوں دوعالم میں جو چاہو رفعتیں اپنی |
| 29 | لب پہ ہر دم رہے بس یہی تذکرہ |
| 30 | یہ قلب میں بسی ہے تمنا رسول پاک |
| 31 | یا رسول اللہ کرم فرمائیے |
| 32 | میرے آقا میرے سلطان مدینے والے |
| 33 | مرحبا سرکار آئے آمنہ بی بی کے گھر |
| 34 | جہاں تلک یہ اجالا دکھائی دیتا ہے |
| 35 | سارا جگ چمکتا ہے مصطفی کی آمد ہے |
| 36 | نور حق خیرالامم شاہ ہدی |
| 37 | لب پہ ذکر مصطفی ذکر خدا رکھتے ہیں ہم |
| 38 | سرکار کے دیوانے یہ کیا مانگ رہے ہیں |
| 39 | آؤ کریں نبی کی عطاؤ سخا کی بات |
| 40 | جلوه عشق رسالت کا پیالہ رکھ دیا |
| 41 | باخدا کتنا حسیں میرا نصیبہ ہو گیا |
| 42 | جو لو نبی سے لگا رہے ہیں |
| 43 | زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں پہنچے |
| 44 | ہر سمت اجالا پھیلا ہے تشریف محمد لاتے ہیں |
| 45 | رب نے کیا خوب بنایا رخ انور دیکھیں |
| 46 | شہر طیبہ کی یاد آتی ہے |
| 47 | ہم غلاموں کو رسول پاک کی رحمت ملی |
| 48 | نبیوں میں سب سے اعلی خدا کا حبیب ہے |
| 49 | جلوہ شان قدرت بڑی چیز ہے |
| 50 | نور بد رالدجی کی بات کرو |
| 51 | میں نعت نبی جھوم کے پڑھنے ہی لگا تھا |
| 52 | خیر البشر کی عظمت و رفعت نہ پوچھئیے |
| 53 | ماشاء اللہ ماشاء اللہ ماشاء اللہ |
| 54 | بہت عظیم ہیں اے مولا لوگ مٹی کے |
| 55 | رخ حضور سے پردہ ہٹا دیا جائے |
| 56 | بخت خفتہ کو مرے آقا جگا دیتے ہیں |
| 57 | وہ زمانے میں کبھی بھی پارسا ہوتا نہیں |
| 58 | بہت ہی ارفع و اعلیٰ مقام و مرتبہ ہوگا |
| 59 | نبی کی نعت سنائیں حضور آئے ہیں |
| 60 | خدا کی بن کے رحمت سیدِ ابرار آئے ہیں |
| 61 | جاں جسم سے جدا ہو مگر دیکھنے کے بعد |
| 62 | انہی کو بنایا گیا سب سے پہلے |
| 63 | کیوں ہے مہکی فضا مصطفٰے آ گئے |
| 64 | سب چھوڑ کر اندھیرے اجالوں میں آ گئی |
| 65 | خدا نے انہیں پہلے تارا بنایا |
| 66 | جو قبول ہوں دعائیں یہ بعید بھی نہیں ہے |
| 67 | لائے جب تشریف آقا سب سمجھ میں آ گیا |
| 68 | ہے بکھری ہوئی خلد کے گلزار کی رونق |
| 69 | ہم گل نہ کسی گلشن گلزار کے عاشق ہیں |
| 70 | کسی نے گر مقام مصطفیٰ پوچھا زمانے میں |
| 71 | جو کہے کس نے کیا جشنِ نبی |
| 72 | خبر جبریل ممبر سے جہاں کو یہ سناتے ہیں |
| 73 | ہم بھی دیار ہند سے طیبہ کو جائیں گے |
| 74 | تا ابد ہوں رحمتیں یا رب رسول پاک پر |
| 75 | ائے شفیع المذنبیں آئے تاجدار مرسلیں |
| 76 | میرے حضور کا اتنا حسین چہرا ہے |
| 77 | جلی سے کفر کی چلمن نبی کی آمد سے |
| 78 | چاہو غم سے مفر نعت پڑھتے رہو |
| 79 | مل گیا اسکو مقدر سے زیادہ مل گیا |
| 80 | پھیلے ہیں انوار نبی کی آمد ہے |
| 81 | ہے یہی خدا کا فیصلہ مصطفے سا کوئی بھی نہیں |
| 82 | رب سلم علی مرحبا مرحبا |
| 83 | جہاں میں حبیب خدا آ گئے ہیں |
| 84 | خدائی جس پہ ہو شیدا نہ آیا ہے نہ آئے گا |
| 85 | نصیب جاگے ہمارا تو یہ عجب کیا ہے |
| 86 | کوئی کیا سمجھ سکے گا تیرا مرتبہ محمد |
| 87 | تصور کر کے آقا کا مجھے ایک نعت کہنا ھے |
| 88 | دنیا میں اور حشر میں دیکھا جدھر جدھر |
| 89 | رنگ لائی دعا میں مدینے چلا |
| 90 | قدرت کے انوار كا جلوہ کیا کہنا |
| 91 | ہو مکہ مبارک مدینہ مبارک |
| 92 | سرکار آے ہیں میرے سرکار آے ہیں |
| 93 | اسی کو اپنا مقدر بنا خدا کے لیے |
| 94 | سوچتا ہوں میں کیسے نعت لکھوں |
| 95 | رمضان کا استقبال کرو رمضان کا استقبال کرو |
| 96 | مبارک ہو مسلمانوں مہِ رمضان آیا ہے |
| 97 | کرتا ہوں دعا شام سحر رحمت عالم |
| 98 | صاحب جود و سخا طیبہ میں ہے |
| 99 | فرقت غم سے نہ یوں تڑپایئے |
| 100 | ہاتھ اٹھانا ہے بس دعا کے لئے |
| 101 | دور نظروں سے جو مدینہ ہے |
| 102 | پلانے جام وحدت سرور کون و مکاں آۓ |
| 103 | کہتا سنسار ہے مدینے میں |
| 104 | یہ صداۓ مکہ ہے مصطفے کی أمد ہے |
| 105 | جشن رسول پاک منایا کرینگے ہم |
| 106 | کوئ رزاق اور وہاب نہیں |
| 107 | کیا بھاۓ کوئی اس کو زمانے کا خزینہ |
| 108 | کرتے ہیں وہ قرآں کی تلاوت گھڑی گھڑی |
| 109 | وہیں ہے ہم فقیروں کا ٹھکانا یا رسول اللہ |
| 110 | ہر گھڑی اور شام و سحر آپ کی |
| 111 | بات ہم سے کیجیئے گلشن نہ لالہ زار کی |
| 112 | جیسے ہے ممتاز تر امت میں آلِ مصطفیٰ |
| 113 | وہ جنکے دلوں میں مکیں ہیں محمد |
| 114 | جب فاطمہ کے آئے ہیں بابا زمین پر |
| 115 | میرے سرکار سے دل جسنے لگایا ہی نہیں |
| 116 | فرماتا خود خدا ہے لقد جاءکم رسول |
| 117 | اس پہ قربان ہیں ثقلین مدینے والے |
| 118 | خوش ہے یہ سوچ سوچ کے بیمار مصطفی |
| 119 | گیسوئے رحمت عالم کی ہوا کافی ہے |
| 120 | وہ جس کو حسنین کا نانا اچھا لگتا ہے |
| 121 | آئی لَو محمد صلی اللہ آئی لَو محمد صلی اللہ |
| 122 | رسولوں کے سرور دو عالم سے بہتر |
| 123 | صبا ہو جو کوئے محمد میں جانا |
| 124 | نعت نبی کا لب پہ تو نغمہ سجاکے لا |
| 125 | مختار جہاں میری امداد کو آ جاؤ |
| 126 | امت کے غم میں بیکل ہے آمنہ کا پیارا |
| 127 | محبتوں کے حکم آسماں رئیس احمد |
| 128 | آمد محمد پر اپنے گھر سجا لیجیے |
| 129 | محمد صلی علی محمد صلی علی |
| 130 | مرحبا مرحبا عید کی عید ہے |
| 131 | جلوه حسن لم يزل دیدہ و دل پہ چھا گیا |
| 132 | دیار مصطفی سے نہ اٹھے ہرگز جبیں اپنی |
| 133 | رسول پاک سا داتا کہاں سے لاؤ گے |
| 134 | ملی مجھ کو شہرت ہے شہر مدینہ |
| 135 | رحمت دو جہاں محمد ہیں |
| 136 | ہوگا دنیا میں سدا جشن نبی |
| 137 | جو عشق مصطفی میں جھوم کر نعتیں سناتے ہیں |
| 138 | رحمت کے خزانے بٹوانے آیا ہے ربیع النور کا چاند |
| 139 | الفتیں اپنی دکھاؤ آئی میلاد النبی |
| 140 | جس کے دل میں آپ کی ہیں الفتیں شاہ امم |
| 141 | نعت سرور سناتے رہیں گے |
| 142 | وہ حسیں کیا جو فتنے اٹھاتے رہے |
| 143 | کرتا ہوں ذکر احمد مختار با ادب |
| 144 | غم کے مارے گیت خوشی کے گائیں گے |
| 145 | وفا رب سے بتوں سے بے وفائی کتنی اچھی ہے |
| 146 | کیا خوب انتظام ہے طیبہ نگری کا |
| 147 | قدوم مصطفی کا ہی نشاں معلوم ہوتی ہے |
| 148 | سر کو نبئی پاک کی چوکھٹ پہ رکھ دیا |
| 149 | گنہگاروں پہ بھی رحمت کی اب برسات ہو جائے |
| 150 | جذبۂ عشق بلالی سا اثر دے دیجیے |
| 151 | میرے نبی کی دیکھو شان بچہ بچہ ہے قربان |
| 152 | اچھا لگے کہیں نہ کہیں پر بھلا لگے |
| 153 | عرب اور عجم میں جدھر دیکھتے ہیں |
| 154 | سجائے ہیں لعل و گہر میری آنکھیں |
| 155 | چمک جائے میری قسمت کا تارہ یا رسول اللہ |
| 156 | یہی آرزو ہے مدینے میں جائیں |
| 157 | واقعی رب کی رضا ہے مصطفیٰ کے ہاتھ میں |
| 158 | چاند نے تیرے کفِ پا سے ضیا پائی ہے |
| 159 | مرحبا یا مصطفیٰ مرحبا یا مصطفیٰ |
| 160 | تشنگی دل کی بجھاؤ اے مدینے والے |
| 161 | وہ سرکار کی زندگی لکھ رہے ہیں |
| 162 | آمدِ سرورِ دو عالم ہے |
| 163 | میری قسمت ہے ضوفشاں آقا |
| 164 | کیوں نہ مسرور ہو ہر بشر آج خیر الورا آ گئے |
| 165 | جو اُنکے دربار تلک آ پہنچے ہیں |
| 166 | کام آئی میرے نعت کی روشنی |
| 167 | دعاؤں کا ہماری یہ اثر ہے |
| 168 | بیدارئ قسمت کا اثر دیکھ رہے ہیں |
| 169 | خدا کے پیارے دلبر آمنہ کے گھر میں آئے ہیں |
| 170 | اسیروں کے مشکل کشا پیارے آقا |
| 171 | خلوت یزداں دیکھ رہا ہوں |
| 172 | حبیب داور کو جب ضرورت ہوئی تو حق کا پیام آیا |
| 173 | اے عرش والے دے کے عروج سفر مجھے |
| 174 | بلند اتنا ہو جائے شوق زیارت |
| 175 | شافع محشر سرور عالم |
| 176 | دل بن گیا ہے مرکز انوار مصطفی |
| 177 | دلوں سے زنگ کدورت مٹا دیا تو نے |
| 178 | آئے اے کاش وہ بھی زمانہ |
| 179 | وہ لمحہ ہے بس معتبر زندگی کا |
| 180 | شہر نبی کے شام و سحر دیکھنے کے بعد |
| 181 | مصطفائے عز و تقویٰ آپ ہیں |
| 182 | یارب مری تکمیل عبادت نہیں ہوگی |
| 183 | یہ شرف پاؤں میں نعت پڑھتے ہوئے |
| 184 | نوری شام و سحر دیکھتے رہ گئے |
| 185 | نور کا جو آئنہ ہیں سر سے لیکر پاؤں تک |
| 186 | چھوڑو جہان بھر کے قصیدے نئے نئے |
| 187 | ڈالیاں لب پر درودوں کی سجا کر بار بار |
| 188 | عرش پر نور محمد جلوہ گر پہلے سے تھا |
| 189 | کہ رہا ہے یہی سنسار اگر تم چاہو |
| 190 | بنایا مٹی تو ایسا بنا دیا ہوتا |
| 191 | آمنہ کے پیارے کالی کملی والے |
| 192 | میرے سرکار کو رب نے بنایا خوبصورت ہے |
| 193 | محشر کے روز شافع محشر کے آس پاس |
| 194 | پھیلی عالم میں ضیاء ہے یہ خوشی کی بات ہے |
| 195 | دیکھنے آقا کا نوری در بار طیبہ چل |
| 196 | نہ گلستاں سے نہ گل اور کلی سے پیار کرو |
| 197 | کتنی بلند و بالا ہے عظمت رسول کی |
| 198 | صل علی محمد صلی علی محمد صل علی محمد صلی علی محمد |
| 199 | میری ہی نہیں سارے زمانے کی خوشی ہے |
| 200 | وہ چاہیں سورج پلٹائیں اُن کے ئے سب ممکن ہے |
| 201 | پیمبروں کے پیمبر کوئی جواب نہیں |
| 202 | ہر ایک سو جو اُجالا ہے اور کچھ بھی نہیں |
| 203 | نور سراپا شافع محشر کون تمہارے جیسا ہے |
| 204 | سارے غموں کو ہم بھول جائیں |
| 205 | ہے جلوہ گر شاہ امم سوچ سمجھ کر |
| 206 | دی منادی نے ندا ہے آمنہ بی بی کے گھر |
| 207 | نور مجسم نور مجسم |
| 208 | آقا کی میلاد ہے آقا کی میلاد ہے |
| 209 | دل میرا یہی شام و سحر بول رہا ہے |
| 210 | چاند ستارے جس پر ہیں قربان نبی کا چہرا ہے |
| 211 | نبیوں کے سلطان رسول عربی ہیں |
| 212 | یا رسول اللہ یا رسول الله چومتا ہے قدم تیرا عرش علی |
| 213 | کہہ رہی ہے ہر کلی لب کھول کر |
| 214 | آئے آئے محمد صل اللہ آئے آئے محمد صل الله |
| 215 | جو دکھے دل کا ہے مدعا آگئے |
| 216 | انہیں سب پتا ہے انہیں سب پتا ہے |
| 217 | دشت زمیں پر نور کا ایسا ساگر شہر نبی ہے |
| 218 | لبیک یا رسول اللہ لبیک یا رسول الله |
| 219 | کرم کی لگائے ہوئے آس آقا میں راہ نبی میں کب سے کھڑا ہوں |
| 220 | کلیوں کی چٹک پھولوں کی مہک کوئیل کی چہک جگنو کی چمک |
| 221 | ہر دشت مثل لالۂ و گلزار سج گئے |
| 222 | سارا عالم ہے منور کملی والے آگئے |
| 223 | جہاں انوار کے بادل ہر ایک جانب برستے ہیں |
| 224 | بند ہو گئے سارے مشکلوں کے دروازے |
| 225 | راہ ہیں پُر نور سفر ہے طیبہ کا |
| 226 | دولت کی ہے طلب نہ خزینہ پسند ہے |
| 227 | نہ ہے ستاروں کا نہ ماہتاب کا چرچا |
| 228 | درد کے مارے طیبہ چلے ہیں |
| 229 | رحمت آقا تو خورشید اثر ہوتی ہے |
| 230 | تاجدار ملک جن و بشر ہو جائے |
| 231 | جب بھی یاد نبی دل میں آجائے گی |
| 232 | کسی کو مقصد تخلیق کا شعور نہ ہو |
| 233 | جو غم عشق محمد کا اشارہ مل جائے |
| 234 | آفتاب شرف حسن یقیں ہوتی ہے |
| 235 | کمال ہوش کی منزل جنوں نے پائی ہے |
| 236 | میرے درد دل کی عظمت کو خدا ہی جانتا ہے |
| 237 | صل علی رب کا فرماں پیارے نبی کی بات کرو |
| 238 | از سر ابتداء تا حد انتہا آسر آپ کا ہے حبیب خدا |
| 239 | طیبہ کے ہیں کیسے در و دیوار دکھا دو |
| 240 | یہ سچ ہے کہ سرکار کون و مکاں کو بظاہر نگاہوں نے دیکھا نہیں ہے |
| 241 | چلے لا مکاں جو مرے بھی نظر آیا اوج محمدی |
| 242 | الله الله الله لا اله الا هو |
| 243 | مدینے کے مسافر ہیں بڑے خنديده خندیدہ |
| 244 | مری زباں پہ جب آقا کا نام آجائے |
| 245 | انوار کی بارش ہے دن رات مدینے میں |
| 246 | جن کے ایمان و دل حوالے ہیں |
| 247 | رب کی قسم اے میرے آقا یہ سچ ہے |
| 248 | کیے ہیں نور سے روشن جہاں پتھر مدینے کے |
| 249 | ہر اک ذرہ چمکتا ہے محمد مصطفی آئے |
| 250 | والشمس کہے خالق صورت ہو تو ایسی ہو |
| 251 | کر کے میرے نبی کا دیدار چاند سورج |
| 252 | اتنی عظمت والا کہاں ہے اور کسی کا نام |
| 253 | ہر زمانہ میرے حضور کا ہے |
| 254 | نور کی ہے جاگیر مدینے کی دھرتی |