حمد نعت مناقب اہل بیت منقبت نوحہ مناقب قطب المدار صلاۃ و السلام رباعی غزل

نعت شریف ۔

نمبرعنوان
1اے شفیع روز محشر آپ سا کوئ نہیں
2جب مدحت سرکار میں کرنے ہی لگا تھا
3بیاں کرتے ہیں سب ہی عظمتیں شہر مدینہ کی
4وہ جس مکاں سے دوستو طیبہ قریب ہے
5اپنی ناکامی پہ نادم ہیں جہالت کے چراغ
6رب تعالی کی مجھے پہلے ثنا کرنا ہے
7انس و جن پہ دوستوجس کا ہمیشہ راج ہے
8روشن جہاں ہے جس سے وہ انوار آپ ہیں
9جو دیکھو گنبد خضریٰ تو تم ددور پڑھو
10جس نے بھی دنیا میں آقا سے محبت کی ہے
11مسرت دینے بندوں کو ربیع النور آیا ہے
12زندگی کا ہے ہماری مشغلہ صل على
13اک عبد رحمان کی آمد آمد ہے
14ہے لبوں پر سب کے نغمہ عید میلاد النبی ﷺ
15ہے مل گیا اسلام محمد کے کرم سے
16ہمکو ہے ملا ایماں ذات مصطفائی سے
17برستے نور کے دیکھو سدا بادل مدینے میں
18کونین میں اعلیٰ ہے انسان مدینے کا
19سب سے اعلیٰ سب سے افضل آپ ہی کا نام ہے
20اس کا دنیا میں بول بالا ہے
21آمنہ کے لال مرحبا
22مجھے تو خدا کا پیارا ہے کافی
23نوری بشر کو بس بشر کہتے ہو تم نادان ہو
24رکھیں عداوتیں جو خدا کے حبیب سے
25جب زباں پر پیارے آقا کا ترانہ آگیا
26آپ جو آئے نظر محبوب رب
27کیوں نہ جاگے نصیبہ مرا یانبی
28مسلمانوں دوعالم میں جو چاہو رفعتیں اپنی
29لب پہ ہر دم رہے بس یہی تذکرہ
30یہ قلب میں بسی ہے تمنا رسول پاک
31یا رسول اللہ کرم فرمائیے
32میرے آقا میرے سلطان مدینے والے
33مرحبا سرکار آئے آمنہ بی بی کے گھر
34جہاں تلک یہ اجالا دکھائی دیتا ہے
35سارا جگ چمکتا ہے مصطفی کی آمد ہے
36نور حق خیرالامم شاہ ہدی
37لب پہ ذکر مصطفی ذکر خدا رکھتے ہیں ہم
38سرکار کے دیوانے یہ کیا مانگ رہے ہیں
39آؤ کریں نبی کی عطاؤ سخا کی بات
40جلوه عشق رسالت کا پیالہ رکھ دیا
41باخدا کتنا حسیں میرا نصیبہ ہو گیا
42جو لو نبی سے لگا رہے ہیں
43زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں پہنچے
44ہر سمت اجالا پھیلا ہے تشریف محمد لاتے ہیں
45رب نے کیا خوب بنایا رخ انور دیکھیں
46شہر طیبہ کی یاد آتی ہے
47ہم غلاموں کو رسول پاک کی رحمت ملی
48نبیوں میں سب سے اعلی خدا کا حبیب ہے
49جلوہ شان قدرت بڑی چیز ہے
50نور بد رالدجی کی بات کرو
51میں نعت نبی جھوم کے پڑھنے ہی لگا تھا
52خیر البشر کی عظمت و رفعت نہ پوچھئیے
53ماشاء اللہ ماشاء اللہ ماشاء اللہ
54بہت عظیم ہیں اے مولا لوگ مٹی کے
55رخ حضور سے پردہ ہٹا دیا جائے
56بخت خفتہ کو مرے آقا جگا دیتے ہیں
57وہ زمانے میں کبھی بھی پارسا ہوتا نہیں
58بہت ہی ارفع و اعلیٰ مقام و مرتبہ ہوگا
59نبی کی نعت سنائیں حضور آئے ہیں
60خدا کی بن کے رحمت سیدِ ابرار آئے ہیں
61جاں جسم سے جدا ہو مگر دیکھنے کے بعد
62انہی کو بنایا گیا سب سے پہلے
63کیوں ہے مہکی فضا مصطفٰے آ گئے
64سب چھوڑ کر اندھیرے اجالوں میں آ گئی
65خدا نے انہیں پہلے تارا بنایا
66جو قبول ہوں دعائیں یہ بعید بھی نہیں ہے
67لائے جب تشریف آقا سب سمجھ میں آ گیا
68ہے بکھری ہوئی خلد کے گلزار کی رونق
69ہم گل نہ کسی گلشن گلزار کے عاشق ہیں
70کسی نے گر مقام مصطفیٰ پوچھا زمانے میں
71جو کہے کس نے کیا جشنِ نبی
72خبر جبریل ممبر سے جہاں کو یہ سناتے ہیں
73ہم بھی دیار ہند سے طیبہ کو جائیں گے
74تا ابد ہوں رحمتیں یا رب رسول پاک پر
75ائے شفیع المذنبیں آئے تاجدار مرسلیں
76میرے حضور کا اتنا حسین چہرا ہے
77جلی سے کفر کی چلمن نبی کی آمد سے
78چاہو غم سے مفر نعت پڑھتے رہو
79مل گیا اسکو مقدر سے زیادہ مل گیا
80پھیلے ہیں انوار نبی کی آمد ہے
81ہے یہی خدا کا فیصلہ مصطفے سا کوئی بھی نہیں
82رب سلم علی مرحبا مرحبا
83جہاں میں حبیب خدا آ گئے ہیں
84خدائی جس پہ ہو شیدا نہ آیا ہے نہ آئے گا
85نصیب جاگے ہمارا تو یہ عجب کیا ہے
86کوئی کیا سمجھ سکے گا تیرا مرتبہ محمد
87تصور کر کے آقا کا مجھے ایک نعت کہنا ھے
88دنیا میں اور حشر میں دیکھا جدھر جدھر
89رنگ لائی دعا میں مدینے چلا
90قدرت کے انوار كا جلوہ کیا کہنا
91ہو مکہ مبارک مدینہ مبارک
92سرکار آے ہیں میرے سرکار آے ہیں
93اسی کو اپنا مقدر بنا خدا کے لیے
94سوچتا ہوں میں کیسے نعت لکھوں
95رمضان کا استقبال کرو رمضان کا استقبال کرو
96مبارک ہو مسلمانوں مہِ رمضان آیا ہے
97کرتا ہوں دعا شام سحر رحمت عالم
98صاحب جود و سخا طیبہ میں ہے
99فرقت غم سے نہ یوں تڑپایئے
100ہاتھ اٹھانا ہے بس دعا کے لئے
101دور نظروں سے جو مدینہ ہے
102پلانے جام وحدت سرور کون و مکاں آۓ
103کہتا سنسار ہے مدینے میں
104یہ صداۓ مکہ ہے مصطفے کی أمد ہے
105جشن رسول پاک منایا کرینگے ہم
106کوئ رزاق اور وہاب نہیں
107کیا بھاۓ کوئی اس کو زمانے کا خزینہ
108کرتے ہیں وہ قرآں کی تلاوت گھڑی گھڑی
109وہیں ہے ہم فقیروں کا ٹھکانا یا رسول اللہ
110ہر گھڑی اور شام و سحر آپ کی
111بات ہم سے کیجیئے گلشن نہ لالہ زار کی
112جیسے ہے ممتاز تر امت میں آلِ مصطفیٰ
113وہ جنکے دلوں میں مکیں ہیں محمد
114جب فاطمہ کے آئے ہیں بابا زمین پر
115میرے سرکار سے دل جسنے لگایا ہی نہیں
116فرماتا خود خدا ہے لقد جاءکم رسول
117اس پہ قربان ہیں ثقلین مدینے والے
118خوش ہے یہ سوچ سوچ کے بیمار مصطفی
119گیسوئے رحمت عالم کی ہوا کافی ہے
120وہ جس کو حسنین کا نانا اچھا لگتا ہے
121آئی لَو محمد صلی اللہ آئی لَو محمد صلی اللہ
122رسولوں کے سرور دو عالم سے بہتر
123صبا ہو جو کوئے محمد میں جانا
124نعت نبی کا لب پہ تو نغمہ سجاکے لا
125مختار جہاں میری امداد کو آ جاؤ
126امت کے غم میں بیکل ہے آمنہ کا پیارا
127محبتوں کے حکم آسماں رئیس احمد
128آمد محمد پر اپنے گھر سجا لیجیے
129محمد صلی علی محمد صلی علی
130مرحبا مرحبا عید کی عید ہے
131جلوه حسن لم يزل دیدہ و دل پہ چھا گیا
132دیار مصطفی سے نہ اٹھے ہرگز جبیں اپنی
133رسول پاک سا داتا کہاں سے لاؤ گے
134ملی مجھ کو شہرت ہے شہر مدینہ
135رحمت دو جہاں محمد ہیں
136ہوگا دنیا میں سدا جشن نبی
137جو عشق مصطفی میں جھوم کر نعتیں سناتے ہیں
138رحمت کے خزانے بٹوانے آیا ہے ربیع النور کا چاند
139الفتیں اپنی دکھاؤ آئی میلاد النبی
140جس کے دل میں آپ کی ہیں الفتیں شاہ امم
141نعت سرور سناتے رہیں گے
142وہ حسیں کیا جو فتنے اٹھاتے رہے
143کرتا ہوں ذکر احمد مختار با ادب
144غم کے مارے گیت خوشی کے گائیں گے
145وفا رب سے بتوں سے بے وفائی کتنی اچھی ہے
146کیا خوب انتظام ہے طیبہ نگری کا
147قدوم مصطفی کا ہی نشاں معلوم ہوتی ہے
148سر کو نبئی پاک کی چوکھٹ پہ رکھ دیا
149گنہگاروں پہ بھی رحمت کی اب برسات ہو جائے
150جذبۂ عشق بلالی سا اثر دے دیجیے
151میرے نبی کی دیکھو شان بچہ بچہ ہے قربان
152اچھا لگے کہیں نہ کہیں پر بھلا لگے
153عرب اور عجم میں جدھر دیکھتے ہیں
154سجائے ہیں لعل و گہر میری آنکھیں
155چمک جائے میری قسمت کا تارہ یا رسول اللہ
156یہی آرزو ہے مدینے میں جائیں
157واقعی رب کی رضا ہے مصطفیٰ کے ہاتھ میں
158چاند نے تیرے کفِ پا سے ضیا پائی ہے
159مرحبا یا مصطفیٰ مرحبا یا مصطفیٰ
160تشنگی دل کی بجھاؤ اے مدینے والے
161وہ سرکار کی زندگی لکھ رہے ہیں
162آمدِ سرورِ دو عالم ہے
163میری قسمت ہے ضوفشاں آقا
164کیوں نہ مسرور ہو ہر بشر آج خیر الورا آ گئے
165جو اُنکے دربار تلک آ پہنچے ہیں
166کام آئی میرے نعت کی روشنی
167دعاؤں کا ہماری یہ اثر ہے
168بیدارئ قسمت کا اثر دیکھ رہے ہیں
169خدا کے پیارے دلبر آمنہ کے گھر میں آئے ہیں
170اسیروں کے مشکل کشا پیارے آقا
171خلوت یزداں دیکھ رہا ہوں
172حبیب داور کو جب ضرورت ہوئی تو حق کا پیام آیا
173اے عرش والے دے کے عروج سفر مجھے
174بلند اتنا ہو جائے شوق زیارت
175شافع محشر سرور عالم
176دل بن گیا ہے مرکز انوار مصطفی
177دلوں سے زنگ کدورت مٹا دیا تو نے
178آئے اے کاش وہ بھی زمانہ
179وہ لمحہ ہے بس معتبر زندگی کا
180شہر نبی کے شام و سحر دیکھنے کے بعد
181مصطفائے عز و تقویٰ آپ ہیں
182یارب مری تکمیل عبادت نہیں ہوگی
183یہ شرف پاؤں میں نعت پڑھتے ہوئے
184نوری شام و سحر دیکھتے رہ گئے
185نور کا جو آئنہ ہیں سر سے لیکر پاؤں تک
186چھوڑو جہان بھر کے قصیدے نئے نئے
187ڈالیاں لب پر درودوں کی سجا کر بار بار
188عرش پر نور محمد جلوہ گر پہلے سے تھا
189کہ رہا ہے یہی سنسار اگر تم چاہو
190بنایا مٹی تو ایسا بنا دیا ہوتا
191آمنہ کے پیارے کالی کملی والے
192میرے سرکار کو رب نے بنایا خوبصورت ہے
193محشر کے روز شافع محشر کے آس پاس
194پھیلی عالم میں ضیاء ہے یہ خوشی کی بات ہے
195دیکھنے آقا کا نوری در بار طیبہ چل
196نہ گلستاں سے نہ گل اور کلی سے پیار کرو
197کتنی بلند و بالا ہے عظمت رسول کی
198صل علی محمد صلی علی محمد صل علی محمد صلی علی محمد
199میری ہی نہیں سارے زمانے کی خوشی ہے
200وہ چاہیں سورج پلٹائیں اُن کے ئے سب ممکن ہے
201پیمبروں کے پیمبر کوئی جواب نہیں
202ہر ایک سو جو اُجالا ہے اور کچھ بھی نہیں
203نور سراپا شافع محشر کون تمہارے جیسا ہے
204سارے غموں کو ہم بھول جائیں
205ہے جلوہ گر شاہ امم سوچ سمجھ کر
206دی منادی نے ندا ہے آمنہ بی بی کے گھر
207نور مجسم نور مجسم
208آقا کی میلاد ہے آقا کی میلاد ہے
209دل میرا یہی شام و سحر بول رہا ہے
210چاند ستارے جس پر ہیں قربان نبی کا چہرا ہے
211نبیوں کے سلطان رسول عربی ہیں
212یا رسول اللہ یا رسول الله چومتا ہے قدم تیرا عرش علی
213کہہ رہی ہے ہر کلی لب کھول کر
214آئے آئے محمد صل اللہ آئے آئے محمد صل الله
215جو دکھے دل کا ہے مدعا آگئے
216انہیں سب پتا ہے انہیں سب پتا ہے
217دشت زمیں پر نور کا ایسا ساگر شہر نبی ہے
218لبیک یا رسول اللہ لبیک یا رسول الله
219کرم کی لگائے ہوئے آس آقا میں راہ نبی میں کب سے کھڑا ہوں
220کلیوں کی چٹک پھولوں کی مہک کوئیل کی چہک جگنو کی چمک
221ہر دشت مثل لالۂ و گلزار سج گئے
222سارا عالم ہے منور کملی والے آگئے
223جہاں انوار کے بادل ہر ایک جانب برستے ہیں
224بند ہو گئے سارے مشکلوں کے دروازے
225راہ ہیں پُر نور سفر ہے طیبہ کا
226دولت کی ہے طلب نہ خزینہ پسند ہے
227نہ ہے ستاروں کا نہ ماہتاب کا چرچا
228درد کے مارے طیبہ چلے ہیں
229رحمت آقا تو خورشید اثر ہوتی ہے
230تاجدار ملک جن و بشر ہو جائے
231جب بھی یاد نبی دل میں آجائے گی
232کسی کو مقصد تخلیق کا شعور نہ ہو
233جو غم عشق محمد کا اشارہ مل جائے
234آفتاب شرف حسن یقیں ہوتی ہے
235کمال ہوش کی منزل جنوں نے پائی ہے
236میرے درد دل کی عظمت کو خدا ہی جانتا ہے
237صل علی رب کا فرماں پیارے نبی کی بات کرو
238از سر ابتداء تا حد انتہا آسر آپ کا ہے حبیب خدا
239طیبہ کے ہیں کیسے در و دیوار دکھا دو
240یہ سچ ہے کہ سرکار کون و مکاں کو بظاہر نگاہوں نے دیکھا نہیں ہے
241چلے لا مکاں جو مرے بھی نظر آیا اوج محمدی
242الله الله الله لا اله الا هو
243مدینے کے مسافر ہیں بڑے خنديده خندیدہ
244مری زباں پہ جب آقا کا نام آجائے
245انوار کی بارش ہے دن رات مدینے میں
246جن کے ایمان و دل حوالے ہیں
247رب کی قسم اے میرے آقا یہ سچ ہے
248کیے ہیں نور سے روشن جہاں پتھر مدینے کے
249ہر اک ذرہ چمکتا ہے محمد مصطفی آئے
250والشمس کہے خالق صورت ہو تو ایسی ہو
251کر کے میرے نبی کا دیدار چاند سورج
252اتنی عظمت والا کہاں ہے اور کسی کا نام
253ہر زمانہ میرے حضور کا ہے
254نور کی ہے جاگیر مدینے کی دھرتی